تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 410

اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 27 اکتوبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم قرآن مجید کے تراجم کے علاوہ میں نے بتایا تھا کہ مختلف مسائل کی کتابوں کا ایک سیٹ ہونا چاہئے۔اور یہ سیٹ میں نے بارہ بارہ کتابوں کا تجویز کیا تھا۔پس ساتوں زبانوں کی چوراسی کتابیں بنتی ہیں۔آج میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان پر کتنا خرچ ہوگا ؟ انگریزی اور عربی کے لئے ترجمہ کے خرچ کی ضرورت نہیں۔صرف سات زبانوں میں ترجمہ کے خرچ کی ضرورت ہے۔پس ان چوراسی کتابوں کا اگر ایک ہزار روپیہ اوسطاًفی کتاب ترجمہ کا خرچ لگالیں تو چوراسی ہزار روپیہ بنتا ہے۔اور اگر ایک ایک روپیہ اوسطا فی کتاب جلد بندی سمیت لاگت شمار کر لیں تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ ایک زبان میں ایک کتاب کی پانچ ہزار کا پیاں چھپوانے پر پانچ ہزار روپیہ خرچ ہوگا اور ایک زبان میں بارہ کتابیں پانچ پانچ ہزار چھپوانے پر ساٹھ ہزار روپیہ لگے گا اور ساتوں زبانوں میں بارہ بارہ کتابوں کا سیٹ چھپوانے پر چار لاکھ بیس ہزار روپیہ خرچ آئے گا۔انگریزی اور عربی زبانوں میں بارہ بارہ کتب کے سیٹ کے چھپوانے پر مزید ایک لاکھ ہیں ہزار روپیہ خرچ آئے گا۔اس میں چوراسی ہزار روپیہ کتابوں کے تراجم کا خرچ شامل کیا جائے تو کل خرچ کتب کے ترجمہ اور چھپوائی پر چھ لاکھ چوبیس ہزار ہوتا ہے۔اس میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپیہ قرآن مجید کے تراجم کا بھی شمار کر لیا جائے تو سات لاکھ اٹھاسی ہزار روپیہ کی رقم بنتی ہے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا تھا مختلف قسم کے ٹریکٹوں اور اشتہارات کی بھی ان زبانوں میں ضرورت ہے۔اگر چالیس ہزار روپیہ اشتہارات کا خرچ بھی شامل کر لیا جائے تو یہ آٹھ لاکھ چوبیس ہزا رو پسیہ کا اندازہ ہو جاتا ہے۔اور اگر خط و کتابت، تاریں اور دوسرے فوری اخراجات کو شامل کر لیا جائے تو یوں سمجھنا چاہیے کہ اس سارے کام کے لئے ساڑھے آٹھ لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے۔اتنی رقم ہمارے پاس ہونی چاہیے تا کہ ہم کام کی ابتداء کر سکیں۔جس طرح نوجوانوں کے لئے میگزین مہیا کیا جاتا ہے، اسی طرح ہمارے لئے بھی دنیا میں تبلیغ کی ابتداء کرنے کے لئے اس میگزین کی ضرورت ہے۔پس ہمیں یہ روپیہ مہیا کرنا ہوگا تا کہ جنگ کے خاتمہ پر ہم تیار ہوں اور مبلغین کو باہر بھیج سکیں“۔میں نے وقف جائیداد کی تحریک کی تھی۔اس وقت تک جو جائیداد میں وقف ہو چکی ہیں، وہ ساٹھ لاکھ روپیہ کی ہیں۔ابھی پانچ چھ سو آدمی ایسے بھی ہیں، جنہوں نے وقف جائیداد کے فارم نہیں بھجوائے۔ان کو شامل کر کے ایک کروڑ روپیہ کی جائیدادیں وقف ہو چکی ہیں اور صحیح حسابی نقطہ نگاہ سے سوا کروڑ روپیہ کی۔کیونکہ کچھ آمد نیاں بھی وقف ہیں اور ہم نے ان کو اتنا ہی شمار کیا ہے، جتنی کہ آمدنی ہے۔حالانکہ جائیداد اور آمدنی میں فرق ہے۔جائیداد سے اس کی مالیت کا بیسواں حصہ آمدنی ہوتی ہے۔سو روپیہ وو 410