تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 409
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 27 اکتوبر 1944ء دوسری جلد کے تفسیری نوٹوں کی میں اپنی ہدایات کے مطابق اصلاح کرارہا ہوں، وہ بھی انشاء اللہ جلدی مکمل ہو جائے گی۔باقی سات اور زبانوں میں تراجم کی ضرورت ہے۔اور میں نے بتایا تھا کہ ان ساتوں زبانوں میں تراجم شروع ہو چکے ہیں یعنی روی ، جرمن، فرانسیسی ، اطالین ، ڈچ، پرتگیزی اور سپینش زبانوں میں ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ یہ تراجم غالبا جون یا جولائی 45 ء تک مکمل ہو جائیں گے۔اس کے بعد کچھ وقت نظر ثانی پر لگے گا۔اس لئے جنگ کے خاتمہ تک تراجم انشاء اللہ بالکل تیار ہو جائیں گے۔پھر چھپوائی پر بھی کچھ وقت لگے گا۔میں نے تراجم کے خرچ کا اندازہ بتایا تھا کہ فی ترجمہ اگر چھ ہزار روپیہ اوسط لگالیں تو سات تراجم کے لئے بیالیس ہزار روپیہ کا اندازہ ہے۔(اس بارہ میں یا درکھنا چاہئے کہ تراجم کے کرنے کا وعدہ سات جماعتوں یا سات افراد کی طرف سے آچکا ہے۔1۔میری طرف سے۔2,3۔لجنہ اماءاللہ کی طرف سے۔4,5۔قادیان و کارکنان صدر انجمن کی طرف سے۔6۔سر محمد ظفر اللہ خان صاحب اور ان کے بعض دوستوں کی طرف سے۔7۔میاں غلام محمد صاحب اختر اور ان کے دوستوں کی طرف سے یالاھور کی جماعت کی طرف سے۔ان دو امیدواروں کی نسبت بعد میں فیصلہ ہوگا کہ کسے حق دیا جائے؟ اس کے علاوہ کلکتہ کی جماعت کی طرف سے اور میاں محمد صدیق اور محمد یوسف صاحبان تاجران کلکتہ کی طرف سے۔بعدۂ ملک عبدالرحمان مل اونر قصور اور سیٹھ عبداللہ بھائی صاحب سکندر آباد کی طرف سے بھی ایک ایک ترجمے کا خرچ کا وعدہ آچکا ہے۔جزاهم الله احسن الجزاء۔لیکن اب یہ مدختم ہو چکی ہے، اس وجہ سے پانچ وعدے شکریہ کے ساتھ واپس کرنے ہوں گے ) اس کے بعد چھپوائی کا سوال ہے۔میں نے بتایا تھا کہ اگر ایک ترجمہ کی چھپوائی کا اندازہ پندرہ ہزار روپیہ اوسطا لگا لیں تو سات تراجم کی چھپوائی پر ایک لاکھ پانچ ہزار روپیہ خرچ آئے گا۔گویا تراجم کا خرچ شامل کر کے ساتوں کی مکمل اشاعت پر ایک لاکھ سنتالیس ہزار روپیہ خرچ آئے گا اور اگر جلد بندی وغیرہ کا خرچ بھی تیرہ چودہ ہزار روپیہ شمار کر لیا جائے تو ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپیہ بنتا ہے۔409