تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 408

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 27 اکتوبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم سکیں۔مگر بہر حال خدا کے فضل سے گزارہ کے لیے ہمارے پاس ایسے آدمی تیار ہو گئے ہیں اور ہور ہے ہیں، جو عربی اور انگریزی جاننے والے ممالک میں تبلیغ کا کام کرسکیں۔انگریزی زبان یورپ کے قریبا ہر ملک میں استعمال ہوتی ہے اور ہر ملک میں لاکھوں آدمی یہ زبان بولتے اور جانتے ہیں۔اس زبان کے ذریعہ یورپین ممالک میں کام شروع ہو سکتا ہے۔اسی طرح اسلامی ممالک میں عربی اور فارسی جاننے والے مبلغ کام کر سکتے ہیں۔باوجود وہاں کی لوکل زبان نہ جاننے کے وہاں کام شروع ہو سکتا ہے کیونکہ اسلامی ممالک کا بیشتر حصہ عربی اور فارسی سمجھتا اور جانتا ہے۔پھر دو تین سال وہاں رہنے سے مبلغین وہاں کی لوکل زبان بھی سیکھ لیں گے۔پس جہاں تک مبلغوں کی تیاری کا سوال ہے، ہم نے خدا کے فضل سے ابتدائی تیاری کرلی ہے۔اس وقت تک جو واقفین ہم نے لئے ہیں، وہ ساٹھ کے قریب ہیں۔جن میں سے کچھ تو دفاتر میں کام کرنے کے لئے ہیں اور کچھ باہر تبلیغ کی خاطر بھیجنے کے لئے۔گو یہ تعداد کافی نہیں۔ہمیں بہت زیادہ مبلغین کی ضرورت ہے۔مگر بہر حال اس سے کام شروع کیا جاسکتا ہے۔روپیہ کا سوال اس حد تک حل ہو چکا ہے کہ وہ روپیہ مرکزی اور دفتری کاموں کا بوجھ اٹھا سکے لیکن مبلغین کے لئے لٹریچر مہیا کرنے اور دوسری تبلیغی ضروریات پورا کرنے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔تحریک جدید کے گذشتہ دور میں دس پندرہ لاکھ کاریز روفنڈ قائم ہوا ہے۔یہ فنڈ ایسا ہے، جس میں وہ روپیہ بھی شامل ہے، جو جائیداد کی صورت میں ہے بلکہ یہ تمام ریز روفنڈ جائیداد کی صورت میں ہی ہے۔پس یہ فنڈ اس حد تک تعاون کر سکتا ہے کہ دفتری اور مرکزی کام کا بوجھ اٹھا سکے اور یہ بوجھ جماعت پر نہ پڑے۔لیکن مبلغین کی دوسری تمام ضروریات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ممکن ہے، تحریک جدید کے آئندہ دوروں کے ذریعہ یہ فنڈ اس حد تک بھی ہو جائے کہ تبلیغ کے لئے لٹریچر مہیا کرنے اور مبلغوں کے اخراجات بھی برداشت کر سکے مگر اس وقت تک جور نیز روفنڈ قائم ہوا ہے، وہ اس کی برداشت نہیں کر سکتا۔البتہ اس کے ذریعہ غیر ممالک میں تبلیغ کی ابتدا کی جاسکتی ہے۔وسیع پیمانہ پر تبلیغ کے لئے بھاری فنڈ کی ضرورت ہے، جو مبلغین کی تبلیغی ضروریات پورا کر سکے اور کتب، رسالے وغیرہ کثرت سے لٹریچر شائع کرنے کا بوجھ اٹھا سکے۔پچھلے جمعہ میں نے جو خطبہ دیا تھا، اس میں، میں نے جماعت کے سامنے ایک سکیم یہ پیش کی تھی کہ ہمیں فوری طور پر آٹھ زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم کی ضرورت ہے۔اور میں نے بتایا تھا کہ خدا کے فضل سے یہ کام شروع ہو چکا ہے۔انگریزی ترجمہ تو کمل ہو گیا ہے۔جو دو جلدوں میں انشاء اللہ تعالٰی شائع ہوگا۔پہلی جلد چھپ رہی ہے، جس کے مجلس شوری تک شائع کر دینے کا پریس والوں نے وعدہ کیا ہے۔408