تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 407
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 27 اکتوبر 1944ء دین کی جو عمارت بنے گی ، اس میں ہماری حیثیت روڑی کی ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 27 اکتوبر 1944ء میں نے گزشتہ خطبہ میں بیان کیا تھا کہ اب چونکہ جنگ ختم ہونے والی ہے اور ایسے آثار ظاہر ہورہے ہیں کہ چھ ماہ یا سال کے اندر اندر یا سال سے کچھ کم یعنی سات آٹھ ماہ کے اندر جنگ ختم ہو جائے گی اور پھر اس کے بعد چھ ماہ یا سال تک گویا آج سے ڈیڑھ سال یا دو سال کے عرصہ تک آمد و رفت کے رستے کھل جائیں گے اور مبلغین باہر جاسکیں گے۔اس لیے ہمیں آج ہی سے تیاری کرنا چاہیے۔کچھ تیاری تو پچھلے پانچ سال میں ہم نے کی ہے اور ایسے مبلغ تیار کئے ہیں، جو خدا کے فضل اور کرم سے غیر ممالک میں جا کر تبلیغ کر سکتے ہیں۔اس سے میری مراد یہ ہے کہ اکثر عربی اور بعض انگریزی میں اچھے ماہر ہیں اور ان دونوں زبانوں والے ممالک میں وہ اچھی طرح کام کر سکتے ہیں۔عربی کے ذریعہ اسلامی ممالک میں تبلیغ ہو سکتی ہے اور بہت سے ممالک میں انگریزی کے ذریعہ تبلیغ ہوسکتی ہے۔کیونکہ یہ زبان اکثر یورپین ممالک میں پھیلی ہوئی ہے اور لوگ اس کو بولتے اور سمجھتے ہیں۔باقی سات زبانوں کے جاننے والے ابھی ہماری جماعت میں پیدا نہیں ہوئے۔اگر کوئی ہیں تو بہت کم یا ایسے ماہر نہیں کہ ان زبانوں میں پوری طرح قابل ہوں اور اپنے لٹریچر کا ان زبانوں میں ترجمہ کرسکیں ، سوائے دو چار کے۔مثلاً ملک محمد شریف صاحب اٹلی میں ہیں، انہوں نے وہاں شادی بھی کر لی ہے۔اگر ان کی شادی ہمارے پروگرام میں روک نہ بن سکے یعنی مزید تعلیم حاصل کرنے میں حارج نہ ہو۔کیونکہ ان کی عربی تعلیم ابھی کم ہے تو اس صورت میں وہ اٹالین زبان کو جاننے والے ہوں گے۔دوسرے مولوی رمضان علی صاحب ساؤتھ امریکہ میں ہیں۔ممکن ہے اس وقت تک پرتگیزی یا سپینش زبان انہوں نے سیکھ لی ہو اور وہ اس قابل ہو چکے ہوں کہ ان زبانوں میں تبلیغ کا کام کر سکیں۔تیسرے صوفی عبد القدیر صاحب جاپان میں رہ آئے ہیں، مزید کوشش کے بعد وہ جاپانی زبان میں مہارت پیدا کر سکتے ہیں۔باقی زبانوں کے جاننے والے ہماری جماعت میں کوئی نہیں۔ہماری جماعت میں بعض جرمن زبان جانتے ہیں لیکن صرف اتنی کہ کتابیں پڑھ سکیں۔یہ نہیں کہ اس زبان میں کتابیں لکھ سکیں یا ترجمہ کر سکیں یا اس زبان میں تقریریں کر یہ کہ میں کا یاترجمہ 407