تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 29
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 02 اگست 1940ء قربانی کے بغیر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہونا ناممکن ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 02 اگست 1940ء تحریک جدید کے اس سال کے اعلان پر آٹھ ماہ گزر چکے ہیں مگر مجھے افسوس ہے کہ ابھی اس سال کی نصف رقم وصول نہیں ہوئی۔ابھی آتے وقت مجھے ایک فہرست دی گئی ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ بہت سی چھوٹی چھوٹی جماعتیں جن کے چندوں کی مجموعی تعداد چھ ، سات ہزار سے زیادہ نہ ہوگی۔ستر کے قریب ایسی ہیں کہ جن کی طرف سے ابھی کوئی پیسہ بھی وصول نہیں ہوا۔یہ جماعتیں بہت چھوٹی چھوٹی ہیں۔بعض میں چھ سات سے زیادہ احمدی نہیں اور بعض دور دراز گوشوں میں ہیں۔ان کی طرف سے ابھی ایک پیسہ بھی وصول نہیں ہوا۔پھر ایک خاصی تعداد ایسی ہے جن کی وصولی تینتیس فیصدی سے زیادہ نہیں یعنی ان میں سے کسی کی وصولی دس فیصدی ہے، کسی کی بارہ فیصدی کسی کی ہیں، کسی کی تمہیں اور کسی کی تینتیس فیصدی۔پھر بعض وہ ہیں جن کا تینتیس سے پچاس فیصدی کے درمیان چندہ وصول ہوا ہے۔اور کچھ وہ ہیں جن کا پچاس سے ستر فیصدی تک۔اور بہت تھوڑی جماعتیں ایسی ہیں جن کا قریباً سارا یا بہت سا حصہ وصول ہو چکا ہے۔حالانکہ میں نے بار بار توجہ دلائی ہے کہ جو لوگ ادا نہیں کر سکتے ، وہ اپنے نام نہ لکھوائیں۔ایسے لوگ جماعت کی ترقی کا موجب نہیں ہوتے بلکہ نقصان کا موجب ہوتے ہیں۔مومن کے وعدے پر اعتبار کر لیا جاتا ہے اور وعدوں کی مجموعی رقم کے مطابق پروگرام بنا لیا جاتا ہے لیکن اگر ان میں سے کچھ وعدے پورے نہ ہوں تو نقصان لازمی ہے۔فرض کرو دس آدمی وعدہ کرتے ہیں اور ان کے وعدے کے مطابق پروگرام بنا لیا جاتا ہے، اب اگر ان میں سے چار اپنا وعدہ پورا نہ کریں تو اس کام کو جو نقصان پہنچے گا اس کا گناہ انہی لوگوں پر ہو گا جنہوں نے دھوکا دیا۔اگر وہ نام نہ لکھواتے تو سلسلہ مقروض نہ ہوتا۔سلسلہ نے ان کو ایمان دار سمجھا اور ان کے وعدوں پر اعتبار کیا مگر دراصل وہ بے ایمان تھے اور دھوکا دینے والے تھے، اس لئے سلسلہ کو مقروض ہونا پڑا۔میں نے بار بار کہا ہے کہ ثواب اس میں نہیں کہ آدمی اپنا نام لکھوا دے بلکہ یہ تو عذاب حاصل کرنے کا طریق ہے۔اس سے جتنا بوجھ سلسلہ پر پڑے گا اس کا عذاب انہی لوگوں پر ہوگا۔جو نام لکھوا دیتے ہیں مگر وعدہ پورا نہیں کرتے۔اس میں شک نہیں 29