تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 402
خطبه جمعه فرموده 20 اکتوبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم بھی حق ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کے مرسل کا مرکز ہے۔اس لئے میں نے اس کا نام چنا ہے۔چنا نہیں بلکہ اس کے ثواب کو بچانے کے لئے کہ اس کی جگہ کوئی اور نہ لے لے، میں نے قادیان کا نام لے دیا ہے۔عورتیں بھی چونکہ بے زبان ہوتی ہے اور ان تک آواز پہنچے میں دیر لگ جاتی ہے، اس لئے میں نے ان کا بھی نام لے دیا ہے۔میرا حق تھا کہ اس کام میں میرا حصہ ہو، اس لئے میں نے اپنا نام لے دیا ہے۔قادیان کا حق تھا کہ اس کام میں ان کا حصہ ہو، اس لئے میں نے قادیان کا نام لے دیا ہے۔عورتوں کا حق تھا کہ اس کام میں ان کا حصہ ہو، اس لئے میں نے عورتوں کا نام لے دیا ہے۔جن کے حقوق ظاہر تھے ، ان کے نام میں نے لے دیئے ہیں اور باقی چار (چوہدری صاحب کے وعدے کے بعد تین ) ترجموں کی رقم میں نے جماعتوں پر چھوڑ دی ہے۔مختلف شہر یا صوبے یا افراد اپنے ذمہ ایک ایک ترجمہ کی رقم لے لیں اور یہ چندہ مارچ 1945ء کے آخر تک پہنچ جانا چاہیے۔اس وقت تک ہم نے تحریک جدید کے فنڈ سے رقم خرچ کی ہے، جو تراجم کی رقوم وصول ہونے پر تحریک جدید کو واپس کر دی جائے گی۔اس لئے چندے اور وعدے بھی تحریک جدید کے نام آنے چاہئیں۔( یعنی اس کے فنانشل سیکریٹری کے نام۔) اس کے بعد چھپوائی کا سوال رہ جاتا ہے۔میرا اندازہ ہے کہ ان سات تراجم کی پانچ پانچ ہزار کا پیاں ، پندرہ پندرہ ہزار روپیہ میں چھپ سکیں گی۔اور جماعت کے جوش اور اخلاص کو دیکھا جائے تو اس کے لحاظ سے یہ کوئی بڑی رقم نہیں۔میں سمجھتا ہوں جس وقت تراجم مکمل ہو جائیں گے ، اس وقت اس پندرہ پندرہ ہزار روپیہ کی رقم کا ادا کرنا جماعت کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہوگا۔اس کے بعد ہمارے مبلغوں کے پاس قرآن کے علاوہ کچھ اور لٹریچر ہونا بھی ضروری ہے، جو مخصوص اور ضروری مسائل پر مشتمل ہو۔میں سمجھتا ہوں کہ بارہ بارہ کتابوں کا سیٹ ہمارے مبلغوں کے پاس ہونا چاہیے، جسے وہ فروخت کر سکیں یا تحفہ دے سکیں۔اس سیٹ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا ہونا ضروری ہے۔تبرک کے طور پر بھی اور اس لحاظ سے بھی کہ حضور علیہ السلام کی کتب میں اس زمانہ کی ضرورت کے مطابق تمام قسم کے علوم اور مسائل آگئے ہیں۔ان میں سے ایک اسلامی اصول کی فلاسفی اور دوسری مسیح ہندوستان میں ہونی چاہیے۔باقی دس رہ جاتی ہیں۔ایک میری کتاب ”احمدیت یعنی حقیقی اسلام رکھ لی جائے کیونکہ اس میں بھی موجودہ ضروریات کے مطابق بہت سے مسائل آگئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح عمری اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سوانح عمری یہ دو کتابیں بھی ضروری ہیں۔ایک کتاب ترجمہ احادیث رکھی جائے۔اسی طرح پرانے اور نئے عہد نامے میں سے 402