تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 396
خطبہ جمعہ فرمودہ 20 اکتوبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم چلی جاتی ہے۔یہاں تک کہ چین کا ملک ختم ہو جاتا ہے۔اس سے آگے پھر روس کی سرحد افغانستان اور ہندوستان کی سرحدوں سے ٹکراتی ہوئی ان دونوں ملکوں کو بھی ختم کر دیتی ہے۔پھر ایران کی سرحد شروع ہوتی ہے اور وہ بھی ختم ہو جاتی ہے۔پھرڑ کی کا ملک شروع ہوتا ہے اور روس کی سرحد اس کے ساتھ ساتھ بھی چلتی ہے۔اس کے بعد اصلی روس ملک کے ایک طرف فن لینڈ ہے، پھر پولینڈ ہے، زیکو سلوا کیہ اور رومانیہ سے بھی اس کی سرحد میں فکراتی ہیں۔غرض یہ اتنا وسیع ملک ہے کہ دنیا کی آٹھ حکومتوں کے ساتھ اس کی سرحدیں ملتی ہیں۔صرف تھوڑی تھوڑی جگہ سے نہیں بلکہ بڑی لمبائی تک ان کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔اتنے بڑے وسیع ملک کی زبان بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں۔اس قسم کی چوتھی زبان جرمن ہے۔اس زبان کی اہمیت کی وجہ یہ ہے کہ جرمن بڑے علمی لوگ ہیں۔ہم ان کے کتنے ہی عیوب بیان کریں مگر اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ جرمن لوگ علوم کو علوم کی خاطر حاصل کرتے ہیں۔علوم کی خاطر جو جد و جہد جرمنوں نے کی ہے، اس کی مثال دوسری قوموں میں نہیں ملتی۔دوسری قو میں رسوخ اور اثر پیدا کرنے کی خاطر علمی جدو جہد کرتی ہیں مگر جرمن لوگ علم کو علم کی خاطر حاصل کرتے ہیں۔اس لئے اعلیٰ علوم کی خاطر جرمن زبان کا جاننا ضروری ہے۔مثلاً سائنس کے علم میں جرمنوں نے دوسرے ممالک کی نسبت بہت زیادہ جد و جہد اور بہت زیادہ ترقی کی ہے۔اس لئے جب تک جرمن زبان نہ سیکھی جائے، سائنس کے اعلیٰ علوم سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا۔اس لحاظ سے یہ زبان بھی بہت اہمیت رکھنے والی ہے۔پانچویں زبان فرانسیسی ہے۔یہ زبان اس لئے اہمیت رکھتی ہے کہ پرانے زمانہ میں یورپ کی عام زبان فرانسیسی تھی ، جس طرح ہندوستان میں اردو ہے۔ہندوستان میں جہاں تامل زبان بولی جاتی ہے، وہاں اردو بھی سمجھی جاتی ہے۔جہاں اڑیہ زبان بولی جاتی ہے، وہاں اردو بھی کبھی جاتی ہے۔جہاں مرہٹی زبان بولی جاتی ہے، وہاں اردو بھی کبھی جاتی ہے۔جہاں گجراتی زبان بولی جاتی ہے، وہاں اردو بھی سمجھی جاتی ہے۔اسی طرح یورپ کے تمام ممالک انگلستان، اٹلی اور پین وغیرہ میں جہاں اپنی اپنی زبانیں بولی جاتی ہیں، وہاں ساتھ ساتھ فرانسیسی زبان بھی کبھی جاتی ہے اور اس زبان کے ذریعہ کئی معاملات طے کئے جاتے ہیں۔یورپ کے ملکی تعلقات اور معاملات میں بھی یہ زبان استعمال ہوتی ہے۔اس کے علاوہ انگریزوں کے بعد فرانس ہی ایک ایسا ملک ہے، جس کا دوسرے کئی ممالک پر اثر ہے اور اس کی نو آبادیات کثرت سے باہر پھیلی ہوئی ہیں۔شمالی افریقہ اور مغربی افریقہ کا ایک حصہ اس کی نو آبادیات میں شامل 396