تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 379
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 21 جولائی 1944ء وقف جائیداد والی سکیم تو آخری سہارا ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 21 جولائی 1944ء حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے ہندوستان کے سات مقامات پشاور، کراچی، مدراس ، بمبئی، کلکتہ، دہلی اور لاہور میں مساجد اور جماعتی تبلیغی مراکز کے قیام کی اہمیت و ضرورت بیان کرنے کے بعد فرمایا: "" اس وقت میں کوئی چندہ کی تحریک نہیں کر رہا۔میں یہ اعلان صرف اس لئے کر رہا ہوں تا کہ جماعت آمادہ رہے کہ آئندہ ہمارے پروگرام میں سات ایسے مقامات ہیں، جہاں پر ہمارا مرکز ہونا نہایت ضروری ہے۔پس جماعت کو تیار کرنے کے لئے میں یہ اعلان کر رہا ہوں تا کہ وقت پر اس کام کے لئے احباب پورا پورا حصہ لے سکیں۔میں نے وقف جائیداد کی تحریک کی تھی اور اس وقت تک اندازہ ہے کہ ایک کروڑ یا اس سے زیادہ کی جائیداد میں وقف ہو چکی ہیں۔پس اگر اس تحریک میں کچھ کمی رہ جائے گی تو وقف کی تحریک سے پوری ہو سکتی ہے۔مثلاً اگر تین چار لاکھ روپیہ چندہ جمع ہو جائے تو باقی تین لاکھ رہ جاتا ہے، جو اگر وقف جائیداد سے پورا کر لیا جائے تو واقفین کو صرف تین فیصدی اپنی جائیداد کا دینا پڑے گا، جو کچھ زیادہ نہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے اعلان کیا ہوا ہے، وقف جائیداد والی سکیم تو آخری سہارا ہے۔جس طرح فوج اپنے لئے ایک آخری خندق بناتی ہے کہ اگر فلاں جگہ سے پیچھے ہٹنا پڑا اور فلاں جگہ سے بھی پیچھے ہٹنا پڑا تو اس آخری خندق کو استعمال کریں گے۔اسی طرح وقف جائیداد میں سے اس کمی کو پورا کرنا بھی آخری خندق ہے۔جو اسی وقت استعمال ہو سکتی ہے، جب کوئی اور صورت نہ ہو۔اس لئے پہلی کوشش یہی ہوگی کہ طوعی تحریک کے ذریعہ سے اس رقم کو پورا کیا جائے۔میں سمجھتا ہوں جس قسم کی بیداری ہماری جماعت کے قلوب میں پیدا ہورہی ہے، اس کے سامنے یہ کوئی بڑی بات نہیں۔خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فرمایا تھا:۔ینصرک رجال نوحى اليهم من السماء۔کہ تیری مدد ایسی جماعت کرے گی، جس پر ہم آسمان سے وحی نازل کریں گے۔379