تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 380
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 21 جولائی 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کے اندر، جو مالی قربانی کا مادہ پیدا ہورہا ہے، یہ اس الہی وحی کا نتیجہ ہے ، جو آسمان سے خدا تعالیٰ ان کے دلوں پر نازل کر رہا ہے۔کوئی تحریک ہو، وہ خدا کے فضل سے بہت کامیاب ہو جاتی ہے۔خصوصاً ان دو تین سالوں میں جماعت نے اس نصرت الہی کا بہت اچھا نمونہ دکھایا ہے۔اس سال تین لاکھ سے اوپر تحریک جدید کا چندہ ہوا اور ڈیڑھ لاکھ کے قریب کالج کا چندہ ہوا اور دوسرے طوعی چندے ملا کر چھ سات لاکھ کے قریب بن جاتا ہے۔جن میں سے چار پانچ لاکھ وصول ہو چکا ہے۔یہ ایسی قربانی ہے کہ دو تین سال میں بھی جماعت نے اتنی قربانی نہیں کی جتنی کہ اس سال کی ہے۔پس اس کام کے لئے پہلے طومی تحریک کے ذریعہ چندہ کیا جائے گا اور اگر یہ رقم پوری نہ ہوئی تو پھر وقف جائیداد والی چیز تو بہر حال ہمارے پاس موجود ہی ہے۔لیکن میر انشایہ نہیں کہ ابھی سے اس سکیم کو شروع کر دیا جائے کیونکہ اگر یک دم شروع کر دیا جائے تو ہمارے پاس اتنے مبلغ کہاں سے آئیں گے؟ ابھی تو ان کے تیار ہونے میں بھی تین چار سال لگ جائیں گے۔( مطبوعه الفضل 04 اگست 1944ء) 380