تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 376
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 مئی 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم۔۔۔۔ایسے نازک وقت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اسلام کو ایک نئی زندگی اور نئی حیات بخشنے کا فیصلہ کیا ہے۔پس چاہے اس کو کوئی شکل دے دو، چاہے اس کا کوئی نام رکھ لو۔بہر حال یہ ایک جہاد ہے، جو اسلام کے احیاء کے لیے جاری ہے اور ہر شخص کا فرض ہے کہ اس جہاد میں شامل ہو۔اگر کسی وقت نظام سلسلہ کی طرف سے کسی شخص کو اس جہاد میں شامل ہونے کے لیے نہیں بلایا جاتا تو وہ گنہگار نہیں۔لیکن اگر کسی شخص کو بلایا جاتا ہے اور بلایا بھی ایسی صورت میں جاتا ہے، جب وہ طوعی طور پر اپنا نام پیش کر چکا ہوتا ہے، اسے کہا جاتا ہے کہ فلاں وقت حاضر ہو جاؤ تو اس کے بعد وہ اگر مقررہ وقت پر پہنچنے میں ایک منٹ کی بھی دیر کر دیتا ہے تو وہ باغی ہے۔اور وہ اس قابل ہے کہ اسے جماعت سے خارج کر دیا جائے۔اس وقت وقف زندگی کے عہد میں ان کی سنجیدگی سمجھی جاسکتی ہے، جب فرض کرو ، قادیان ایک پہاڑی مقام پر ہوتا اور اس کے چاروں طرف برف جمی ہوئی ہوتی ، جس پر چلنا مشکل ہوتا مگر پھر بھی مرکز کی طرف سے اعلان ہونے پر اپنی زندگی وقف کرنے والے پیٹوں کے بل گھسٹتے دئے ، اپنے ناخن زمین میں گاڑتے ہوئے ، یہاں تک پہنچ جاتے۔تب بے شک ان کو مومن سمجھا جا سکتا تھا۔تب بے شک کہا جا سکتا تھا کہ انہوں نے اپنے عہد کو پورا کر دیا۔مگر موجودہ صورت ایسی ہے، جو کسی حالت میں بھی قابل عفو نہیں۔ہو 55 میں دفتر تحریک جدید کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ فورا ایسے لوگوں کے نام میرے سامنے پیش کرے اور پھر اپنے ڈاک کے رجسٹروں سے یہ ثابت کرے کہ اس نے ان سب کے نام چٹھیاں بھجوادی تھیں۔اس کے بعد وہ مجھ سے ایک تاریخ مقرر کروا کر الفضل میں اعلان شائع کرا دے کہ یہ لوگ فلاں تاریخ کو میرے سامنے ایک مجرم کی حیثیت میں پیش ہوں اور جواب دیں کہ کیوں نہ ان کو اس جرم کی وجہ سے جماعت سے خارج کر دیا جائے؟ میں اس موقعہ پر ان لوگوں کو ، جنہوں نے اپنی زندگیاں دین کے لئے وقف کی ہوئی ہیں ، ایک بار پھر یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ دیکھو زندگی وقف کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تم نے اپنی جان دین کے لئے دے دی۔میں نے متواتر سمجھایا ہے کہ جب کوئی شخص اپنے آپ کو وقف کر دیتا ہے تو اس کے بعد اس کا کوئی باپ نہیں ہوتا سوائے سلسلہ کے، کوئی ماں نہیں ہوتی سوائے سلسلہ کے کوئی بہن نہیں ہوتی سوائے سلسلہ کے، کوئی بھائی نہیں ہوتا سوائے سلسلہ کے، کوئی بیوی نہیں ہوتی سوائے سلسلہ کے، کوئی بچے نہیں ہوتے سوائے سلسلہ کے۔اس وقف کے معنی یہ ہیں کہ وہ دنیا سے کٹ گیا ہے۔376