تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 377

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 مئی 1944ء مگر میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک برابر مائیں اس قسم کے رفقعے لکھتی رہتی ہیں کہ ہمارے بچوں کا خیال رکھا جائے ، باپ رقعے لکھتے رہتے ہیں کہ ہمارے بیٹوں کا خیال رکھا جائے بلکہ ابھی ایک واقف زندگی کے باپ نے مجھے لکھا کہ میرے بیٹے نے چونکہ فلاں وقت اپنی زندگی وقف کی تھی ، اس لئے اسے فلاں جگہ رکھا جائے۔وہ اپنے آپ کو باپ سمجھتا ہو گا مگر ہم تو اسے اس لڑکے کا باپ سمجھتے ہی نہیں۔جس دن اس نے اپنے بیٹے کو دین کے لئے وقف کر دیا، اس کے بعد اس کا کوئی حق نہیں رہا کہ وہ اپنے بیٹے کے متعلق ہم سے کوئی بات کہے۔اگر کوئی باپ ایسا رقعہ بھیجتا ہے تو ہم اسے پھاڑ کر پھینک دیتے ہیں اور پر واہ بھی نہیں کرتے کہ اس میں کیا لکھا ہے۔لڑکا اگر کچھ کہنا چاہتا ہے تو بے شک کہے۔اگر لڑ کا کوئی ایسی بات کہے گا ، جو اس کے حقوق سے تعلق رکھتی ہوگی اور ہم سمجھیں گے کہ وہ چیز اس کے وقف میں روک نہیں تو اس کا مطالبہ پورا کر دیا جائے گا اور اگر کوئی ایسی بات کہے گا، جو اس کے وقف کے خلاف ہوگی تو اسے مجرم سمجھا جائے گا۔بہر حال کسی واقف زندگی کے باپ یا ماں یا بھائی یا بہن یا بیوی یا بچے کا کوئی حق نہیں کہ وہ وقف کے متعلق ہم سے کوئی بات کرے۔اگر کوئی ایسا رقعہ لکھے گا تو ہم اسے پھاڑ دیں گے اور اگر وہ کوئی بات کرے گا تو ہم اسے سننے کے لئے قطعا تیار نہیں ہوں گے۔ہاں اگر کوئی باپ اپنے بچے کی شادی کے متعلق کوئی بات کہنا چاہتا ہے تو گو اس صورت میں بھی سلسلہ ہی اس کا باپ ہے اور سلسلہ ہی اس کی ماں ،مگر چونکہ جسمانی رشتہ ٹوٹ نہیں سکتا، اس لئے ایسے امور ، جو وقف سے تعلق نہیں رکھتے ، ان کے متعلق ہم ان کی بات سن بھی سکتے ہیں۔مثلاً وہ کہہ سکتا ہے کہ لڑکا جوان ہے، اس کی شادی کا انتظام کیا جائے۔لیکن اگر وہ کوئی ایسی بات کہے گا، جو وقف سے تعلق رکھتی ہوگی۔مثلاً وہ یہ لکھے گا کہ اسے فلاں جگہ مقرر کیا جائے یا اس کی تعلیم کے متعلق کوئی بات لکھے گایا اس کے کام کے متعلق کوئی بات لکھے گا یا جس ملک میں تبلیغ کے لئے اسے بھجوانے کا ارادہ ہو، اس کے متعلق وہ کوئی بات لکھے گایا اس کے گزارہ کے متعلق کوئی بات لکھے گا تو ہمارا ایک ہی جواب ہوگا کہ ہم اس کے رقعہ کو پھاڑ کر پھینک دیں گے۔چاہے اس کے نزدیک اس رقعہ میں کتنی ہی اہم باتیں کیوں نہ لکھی ہوں؟ کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہی نہیں کہ ان معاملات میں وہ باپ رہ گیا ہے یا ماں رہ گئی ہے یا بھائی رہ گیا ہے یا بہن رہ گئی ہے۔ان کا باپ بھی سلسلہ ہے، ان کی ماں بھی سلسلہ ہے ، ان کی بہن بھی سلسلہ ہے اور ان کا بھائی بھی سلسلہ ہے۔بلکہ اگر ان کے لڑکے کو یہ پتہ لگ جائے کہ میری ماں یا میرا باپ میرے کام کے متعلق یا ان ذمہ داریوں کے متعلق ، جو تحریک جدید کی طرف سے مجھ پر عائد کی گئی ہیں، کوئی رقعہ لکھنے والے ہیں تو ایسی صورت میں اگر وہ لڑکا اپنے باپ یا اپنی ماں پر ناراضگی کا اظہار نہ کرے 377