تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 368

ملفوظات فرموده 07 مئی 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم مظالم پر اتر آتے ہیں لیکن مغلوں کو یہ ایک بہت بڑی خوبی نصیب رہی ہے کہ انہوں نے فاتح ہو کر بڑی جلدی اسلام قبول کر لیا اور اس کی اشاعت میں مشغول ہو گئے۔جب کسی قوم میں کوئی نیکی ہوتی ہے تو اللہ تعالی کسی نہ کسی رنگ میں اسے بدلہ دے دیتا ہے۔ہندوستان میں عام طور پر یہ بخشیں ہوتی رہتی ہیں کہ مغل بادشاہوں میں سے کون سا بادشاہ زیادہ عادل اور منصف تھا ؟ لیکن بہر حال دنیوی بادشاہ کچھ نہ کچھ ظلم کر ہی لیتے ہیں۔پھر بھی اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مغلوں نے اسلام کو بہت جلد قبول کیا اور پھر ان کے ذریعہ اسلام بڑی سرعت سے دنیا میں پھیلنا شروع ہو گیا۔میں سمجھتا ہوں شاید ان کی اس نیکی کی وجہ سے ہی اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں اپنا مامور مغلوں میں سے بھیجا ہے اور تاریخ سے یہ امر ثابت ہے کہ مغلوں کا پہلا خروج بغداد پر ہوا۔جس کو انہوں نے تباہ و برباد کر دیا تھا۔پس جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ لکھا ہے کہ پہلا آدم آیا اور اسے جنت سے نکالا گیا مگر یہ دوسرا آدم اس لئے آیا ہے تا کہ شیطان کو جنت سے نکال دے اور خود اس میں داخل ہو جائے۔پہلا مسیح آیا اور اسے دشمنوں نے صلیب پر لٹکا دیا لیکن یہ دوسرا صیح اس لئے آیا ہے تا کہ صلیب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔پہلا یوسف آیا اور اسے لوگوں نے زندان میں ڈالا لیکن یہ دوسرا یوسف اس لئے آیا ہے کہ لوگوں کو زندان میں سے نکالے۔اسی طرح ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پہلے زمانہ میں مغلوں کو ( گو وہ مسلمان نہیں تھے اللہ تعالیٰ نے اس بات پر مامور کیا کہ وہ سزا کے طور پر بغداد میں داخل ہوں مگر اس زمانہ میں مغلوں کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ مقدر کر دیا ہے کہ وہ انعام کے طور پر بغداد میں داخل ہوں اور اس کے لئے ایک نئی زندگی کا موجب ہوں۔ان دونوں نسبتوں سے میں نے یہ سمجھا کہ عراق بھی خدائی سکیم سے باہر نہیں بلکہ اس میں شامل ہے۔اگر ہمیں شام کے متعلق بعض الہامات نظر آتے ہیں تو عراق کے متعلق بھی ایسے الہامات پائے جاتے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ احمدیت کا وہاں پھیلنا مقدر ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عرب پر غلبہ حاصل کرنے کی پہلی سیڑھی عراق ہے۔اور ضروری ہے کہ اس علاقہ میں احمدیت کی اشاعت کی طرف توجہ کی جائے۔اگر عراق میں احمدیت کا غلبہ ہو جائے تو بحرین کے جزائر جو اس کے قرب میں ہی ہیں، وہاں اثر پہنچ سکتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ سارے عرب میں احمدیت پھیل سکتی ہے۔پھر اگر عراق میں احمدیت پھیل جائے تو افغانستان اور ایران دونوں گھر جاتے ہیں اور ان دونوں ممالک پر ایک طرف ہندوستان سے اور دوسری طرف عراق سے ایسا تبلیغی اثر ڈالا جا سکتا ہے کہ ان ممالک کے لئے احمدیت میں داخل ہونے کے سوا کوئی چارہ ہی نہ رہے۔ہٹلر کے متعلق مشہور ہے کہ اس کی 368