تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 362

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 05 مئی 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم بہر حال میں نے اپنا فرض ادا کر دیا اور آوازان تک پہنچادی ہے، اب بھی اگر وہ یا ان کی اولادیں ان نعمتوں سے محروم رہیں، جو اللہ تعالیٰ ان کو دینا چاہتا ہے تو خود اپنے آپ کو یا اپنے والدین کو الزام دیں، میں اللہ تعالیٰ کے حضور بری ہوں کیونکہ میں نے خدا تعالی کی آواز کو ان تک پہنچا دیا۔خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں وہی شخص داخل ہوسکتا ہے، جو ہر قربانی کے لئے تیار ہو۔ایسا شخص جو ان تمام سامانوں کو جو اس کے پاس ہیں، خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دینے کے لئے تیار نہیں ، وہ وقت آنے پر کچا دھاگہ ثابت ہوگا اور اسلام کی جنگ میں فاتح سپاہی کی حیثیت ہرگز حاصل نہ کر سکے گا۔بہر حال ہم نے جدو جہد شروع کر دی ہے اور بعض مراحل طے بھی کر لئے ہیں۔اب پانچویں مرحلہ کا کام شروع ہے۔علماء پیدا کرنے کے لئے میں نے جامعہ احمدیہ کی شکل بدل دی ہے اور اب اسے ایسی صورت میں چلایا جائے گا کہ جلد سے جلدا چھے علماء پیدا ہو سکیں۔اس راہ میں مولوی فاضل کلاس ایک روک تھی، جسے اب اڑا دیا گیا ہے اور ایسے رنگ میں اس کا نصاب بدل دیا گیا ہے اور اپنی ہدایات کے ماتحت اس میں ایسی تبدیلی کرائی ہے کہ جس سے جلد از جلد علماء پیدا ہو سکیں۔مدرسہ احمدیہ کا نصاب بھی ایسے رنگ میں تبدیل کیا جارہا ہے کہ اس میں تعلیم پانے والے جلد از جلد کسی نہ کسی علم کے عالم بن سکیں۔بے شک یہ لڑائی کا بگل نہیں مگر پریڈ کا بگل ضرور ہے اور جو شخص پریڈ کا بگل سن کر پریڈ میں شامل نہیں ہوتا، وہ لڑائی میں شامل نہیں ہوسکتا۔پس جن لوگوں کے دلوں میں اسلام کا درد ہے، یہ بنگل سن کر ان کے دل اچھلنے لگ جانے چاہیں۔جب لڑائی کا بگل بجتا ہے تو رسالہ کے گھوڑوں میں بھی ایک جوش پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ہنہنانے لگتے ہیں، وہ بھی سمجھ جاتے ہیں کہ اب میدان جنگ میں اپنی گردنیں کٹوا کر سرخرو ہونے کا وقت آپہنچا ہے۔لڑائی کا بگل تو جب اللہ تعالیٰ چاہے گا، بجے گا۔پریڈ کا بگل بجادیا گیا ہے اور چاہیے کہ اسلام کا دردر کھنے والے دلوں میں یہ جنگل ایک غیر معمولی جوش پیدا کرنے کا موجب ہو۔وقت آگیا ہے کہ جن نو جوانوں نے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں، وہ جلد سے جلد علم حاصل کر کے اس قابل ہو جائیں کہ انہیں اسلام کی جنگ میں اسی طرح جھونکا جا سکے، جس طرح تنور میں لکڑیاں جھونکی جاتی ہیں۔اس جنگ میں وہی جرنیل کامیاب ہو سکتا ہے، جو اس لڑائی کی آگ میں نو جوانوں کو جھونکنے میں ذرا رحم نہ محسوس کرے اور جس طرح ایک بھڑ بھونجا چنے بھونتے وقت آموں اور دوسرے درختوں کے خشک پنے اپنے بھاڑ میں جھونکتا چلا جاتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے اس کے دل میں ذرا بھی رحم پیدا نہیں ہوتا ، اسی طرح نو جوانوں کو اس جنگ میں جھونکتا چلا جائے۔اگر بھاڑ میں پتے جھونکنے کے بغیر چنے بھی نہیں بھن میں 362