تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 356
ملفوظات فرموده یکم مئی 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم زبان سکھائی جائے گی کسی کو سندھی زبان سکھائی جائے گی کسی کو پشتو زبان سکھائی جائے گی تا کہ وہ ہر زبان میں کام کر سکیں اور ہر زبان کے جاننے والوں کو اسلام میں داخل کر سکیں۔پس تبلیغ کا ایک ذریعہ تو یہ ہے کہ دنیا کی ہر زبان میں مہارت پیدا کی جائے اور پھر تبلیغ کی طرف توجہ دی جائے۔ہے۔دوسرا ذریعہ تبلیغ کا طلب ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں نے ایک طالب علم کو خاص طور پر دہلی میں طب کی تعلیم دلوائی ہے۔طب کی موٹی موٹی باتیں انسان چھ ماہ میں سیکھ کر ہزاروں لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے ہمارے ملک میں کئی علاقے ایسے ہیں، جہاں ڈاکٹری کی بجائے دیسی طب کا علاج ہے اور انسان اگر معمولی سی کوشش سے بھی کام لے تو وہ طب میں مہارت پیدا کر کے ہر قسم کی بیماریوں کا علاج کر سکتا ہے۔مثلاً داڑھ درد ہے یا بخار ہے یا متلی ہے یا سر درد ہے یا قبض ہو یا کھانسی ہے ، ان امراض کے متعلق ایسی ایسی ستی دوائیں موجود ہیں، جو چند پیسوں میں تیار ہو سکتی ہیں اور بیسیوں لوگ ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اگر گولیاں بنائی جائیں تو وہ بھی چند آنوں میں دو دو، تین تین سو تیار ہوسکتی ہیں۔جب کسی بیمار کو ایسا شخص دوائی دے گا تو یہ لازمی بات ہے کہ فائدہ محسوس ہونے پر دوسرا شخص خدمت کرنے کی کوشش کرے گا۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ایک دفعہ علاج کے لئے بمبئی بلایا گیا۔آپ نے یہ سفر جہاز میں کیا تھا۔آپ فرماتے تھے کہ دوستوں نے مجھے کہا کہ آپ سیکنڈ کلاس کا ٹکٹ خرید لیں مگر میں نے کا کہا میں تو ڈیک کا ٹکٹ لوں گا۔جب جہاز میں سوار ہوئے تو آپ نے دیکھا کہ تمام جگہ لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔آپ نے ایک جگہ اپنا بستر بچھایا تو لوگوں نے اسے اٹھا کر پرے پھینک دیا۔وہ گجراتی طرز کے لوگ تھے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے قیافہ شناسی میں بڑا ملکہ عطافرمایا ہوا تھا اور طب میں تو ماہر ہی تھے۔آپ نے ان میں سے ایک شخص کے چہرہ کی طرف غور سے دیکھا اور چونکہ سمندری کنارہ کے رہنے والوں میں قوت باہ کی کمی ہوتی ہے، اس لئے آپ نے اسے کہا مجھے تمہاری شکل سے معلوم ہو گیا ہے کہ تم میں قوت باہ کی کمزوری ہے۔وہ کہنے لگا آپ کو کس طرح پتہ لگا؟ آپ نے کہا میں تمہارے چہرہ سے تاڑ گیا ہوں کیونکہ میں طبیب ہوں۔اس نے کہا آپ بالکل درست فرماتے ہیں۔مہربانی فرما کر کوئی نسخہ لکھ دیں۔آپ نے ایک نسخہ لکھ دیا۔فرماتے تھے، اس ایک نسخے کا لکھنا تھا کہ یوں معلوم ہوا جیسے سب جہاز والے قوت باہ کے مریض ہیں۔ہر ایک نے اپنا اپنا حال آپ سے بیان کرنا شروع کر دیا۔کچھ اور امراض کے مریض بھی نکل آئے اور آپ نے ہر ایک کو علاج بتایا۔اس کا ایسا اثر ہوا کہ یا تو انہوں نے آپ کا بستر اٹھا کر پھینکا تھا اور یا درمیان میں ایک بڑی سی جگہ بنا کر بڑی عزت سے انہوں نے آپ کا بستر بچھا دیا۔پھر کوئی کھانا پکا کر دیتا، کوئی پاخانہ ا 356