تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 352
ملفوظات فرموده یکم مئی 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی حکمت سے یہ بات اپنی امت کو سکھائی ہے۔آپ نے فرمایا: ہر بستی پر باہر سے آنے والے کی مہمان نوازی تین دن تک فرض ہے۔ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! اگر بستی والے کھانا نہ کھلا ئیں تو کیا کیا جائے؟ آپ نے فرمایا تم زبردستی ان سے لے لو۔گویا ہمارا حق ہے کہ ہم تین دن ٹھہریں اور بستی والوں کا فرض ہے کہ وہ تین دن کھانا کھلائے۔میں سمجھتا ہوں، اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبلیغ کے طریق کی طرف اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر تم کسی بستی سے تین دن کھانا کھاتے ہو تو یہ بھیک نہیں۔ہاں اگر تین دن سے زائد ٹھہر کر تم ان سے کھانا مانگتے ہو تو یہ بھیک ہوگی۔اگر ہماری جماعت کے دوست بھی اسی طرح کریں کہ وہ گھروں سے تبلیغ کے لئے نکل کھڑے ہوں، ایک ایک گاؤں اور ایک ایک بستی اور ایک ایک شہر میں تین تین دن ٹھہرتے جائیں اور تبلیغ کرتے جائیں اگر کسی گاؤں والے لڑیں تو جیسے حضرت مسیح ناصری نے کہا تھا، وہ اپنے پاؤں سے خاک جھاڑ کر آگے نکل جائیں تو میں سمجھتا ہوں تبلیغ کا سوال ایک دن میں حل ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی جب وقف زندگی کا اعلان کیا تو گو وقف زندگی کی شرائط آپ نے خود نہیں لکھیں بلکہ میر حامد شاہ صاحب مرحوم سے لکھوائیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو دیکھا اور کچھ اصلاح کے ساتھ پسند فرمایا۔مجھے خوب یاد ہے، ان میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ میں کوئی معاوضہ نہیں لوں گا۔چاہے مجھے درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کرنا پڑے، میں گزارہ کروں گا اور تبلیغ کروں گا۔یہی وہ طریق ہے جس سے صحیح طور پر تبلیغ ہوسکتی ہے۔جب ہم اعداد و شمار سے کام لینے لگتے ہیں تو اخراجات کا اندازہ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ ہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا کہ یہ اخراجات کس طرح پورے ہو سکیں گے ؟ پس اصل تبلیغ ہم اسی طرح کر سکتے ہیں، اس کے بغیر اگر ہم تبلیغ کرنا چاہیں تو مجھے اس میں کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔( مطبوع الفضل 21 دسمبر 1944ء) 352