تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 351
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم ملفوظات فرموده یکم مئی 1944ء حضرت بدھ کے متعلق آتا ہے کہ ایک دفعہ پھرتے پھراتے جب اپنے باپ کے علاقہ میں آئے تو چونکہ انہوں نے تاج و تخت چھوڑ دیا تھا ، وہ جیسے ہماری شریعت میں قانون ہے کہ یتیم بیٹے کو ورثہ نہیں ملتا سوائے اس کے کہ اگر والد چاہے تو اپنی جائداد کے اس حصہ میں سے، جس کی وصیت اس کے لئے جائز ہے، کچھ حصہ ہبہ کردے۔اسی طرح اس ریاست میں یہ قانون تھا کہ اگر بیٹا بادشاہ نہ بنتا تو پوتا تاج و تخت کا وارث نہیں ہوسکتا تھا۔حضرت بدھ کے باپ کو بڑا فکر تھا کہ میرے بیٹے نے تو تخت کو چھوڑ ہی دیا تھا، اس لئے میرے پوتے کے ہاتھ سے بھی بادشاہت نکل جائے گی۔ایک دفعہ اتفاقاً حضرت بدھ اسی علاقے میں آئے تو ان کے باپ نے اپنے پوتے کو، جو دس گیارہ سال کا تھا، ایک پیالہ دے کر کہا جاؤ اور اپنے باپ سے بھیک مانگ لا۔مطلب یہ تھا کہ آپ نے تو گدی پر بیٹھنے سے انکار کر دیا ہے۔اب اپنے اس حق کو میری طرف ہی منتقل کر دیں۔کیونکہ اس ملک میں یہ دستور تھا کہ گوایسی حالت میں ہوتا بادشاہ نہیں بن سکتا لیکن اگر باپ اس کی طرف بادشاہت منتقل کر دے تو وہ منتقل ہو جاتی تھی۔چنانچہ حضرت بدھ جہاں تعلیم دے رہے تھے، وہاں ان کا بیٹا جا پہنچا اور ان کے سامنے ہاتھ چھوڑ کر کہنے لگا: مہاراج میں اپنا حق لینے آیا ہوں۔بدھوں میں دستور ہے کہ جب وہ کسی کو بھکشو بناتے ہیں تو اس کا سرمنڈوا دیتے ہیں، جیسے عیسائی بپتسمہ دیتے ہیں، وہ بھکشو بنانے کے لئے سرمنڈوانا ضروری سمجھتے ہیں۔جب اس نے کہا مہاراج میں آپ کو سے اپنا حق لینے آیا ہوں تو حضرت بدھ نے نائی بلایا اور اس کا سرمنڈوا دیا۔گویا وہ تو گدی لینے گیا تھا مگر انہوں نے اس کو بھی بھکشو بنالیا۔ان کے باپ کو جب معلوم ہوا کہ بدھ نے میرے پوتے کو بھی بھکشو بنا دیا ہے تو وہ ان پر ناراض ہوا کہ تم نے آپ تو گدی چھوڑی تھی ، اپنے بیٹے کو بھکشو بنا کر تو تم نے اپنے خاندان کی جڑ ہی کاٹ دی اور ہماری نسل کو ہی تباہ کر دیا۔( بدھ بھکشو شادی نہیں کر سکتا، اس لئے آئندہ اولاد کا چلنا ناممکن ہو گیا۔انہوں نے کہا میں کیا کرتا ، جب میرا بیٹا مجھ سے خیرات لینے کے لئے آیا تو میں اسے کیا دیتا؟ میرے پاس سب سے بڑی دولت یہی تھی۔اس لئے میں نے اسے یہی چیز دے دی۔دنیا میرے پاس تھی نہیں کہ میں اسے دیتا۔میرے پاس تو یہی ایک چیز تھی ، سو میں نے اسے دے دی۔باپ کہنے لگا۔اب تو جو کچھ ہو چکا ، سو ہو چکا۔آئندہ کے لئے کسی نابالغ کو بھکشونہ بنانا۔حضرت بدھ نے وعدہ کر لیا۔چنانچہ اب تک بدھ مذہب کے احکام میں یہ شامل ہے کہ کسی نابالغ کو بھکشو نہ بنایا جائے۔یہی طریق عیسائیوں کی تبلیغ کا تھا۔حضرت مسیح ناصری نے اپنے حواریوں سے کہا کہ تم دنیا میں نکل جاؤ اور تبلیغ کرو۔جب رات کا وقت آئے تو جس بستی میں تمہیں ٹھہر نا پڑے، اسی بستی کے رہنے والوں سے کھانا کھاؤ اور پھر آگے چل دو۔351