تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 350

ملفوظات فرمودہ یکم مئی 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم ہے۔اسی طرح لٹریچر کے اخراجات اور آمد و رفت کے کرایہ وغیرہ کو شامل کر کے ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ خرچ ہوسکتا ہے۔لیکن مبلغین کے اخراجات چونکہ بالعموم وہ لوگ خود برداشت کر لیتے ہیں، اس لئے اگر سو مبلغ ہوں تو ساٹھ ہزار روپیہ سال کے خرچ سے ہم وسیع طور پر وہاں تبلیغ کر سکتے ہیں۔اگر ہم وہاں سو مبلغ مقرر کریں تو میرا اندازہ یہ ہے کہ ایک ایک سال میں ہی لاکھ دولاکھ احمدی ہو جائیں اور دس بارہ سال میں خدا تعالی کے فضل سے افریقہ کا اکثر حصہ احمدی ہو جائے۔کیونکہ تبلیغی لحاظ سے وہ اس قسم کا علاقہ ہے، جیسے کسی کو کوئی کان مل جاتی ہے یا خزانہ اس کے ہاتھ آجاتا ہے۔اب ہمارا کام ہے کہ اس کان کو کھو دیں اور اس خزانہ سے فائدہ اٹھا ئیں۔اگر ہم افریقہ میں صحیح طور پر تبلیغ کریں تو جیسے نبیوں کی جماعتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ ایک دن یدخلون فی دین اللہ افواجا کا نظارہ انہیں نظر آنے لگتا ہے، اسی طرح ہم یدخلون فی دین اللہ افواجا کا نظارہ افریقہ میں دیکھ سکتے ہیں۔وہاں بعض دفعہ ایک ایک دن میں سوسو، دو دوسو بلکہ ہزار ہزار احمدی ہوئے ہیں۔ہمارے ہاں تو جماعت کو اگر کہیں کامیابی ہو تو دوسری جگہ کے لوگ لٹھ لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں کہ تمہیں وہاں تو کامیابی ہوگئی تھی ، اب ہمارے ہاں آکر دیکھو ہم کس طرح تمہاری خبر لیتے ہیں؟ مگر وہاں یہ بات نہیں۔وہاں الٹا دوسرے لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ آپ لوگ ہمیں کیوں بھول گئے ؟ کیا دوسرے زیادہ حق رکھتے تھے کہ آپ ان کے پاس گئے اور ہمارے پاس نہیں آئے ؟ پس در حقیقت وہ سب سے زیادہ مستحق ہیں، اس بات کے کہ ان کی طرف توجہ کی جائے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ گوان اخراجات کو برداشت کرنے کی بھی ہماری جماعت میں طاقت نہیں لیکن فرض کرو، جماعت ان اخراجات کو برداشت کرلے تو پھر بھی کیا ہوسکتا ہے؟ میں نے بتایا ہے کہ یہ تبلیغ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔میں نے سردست صرف 80 مبلغین کا اندازہ کیا ہے۔پچاس ہندوستان کے لئے اور 30 بیرون ہند کے لئے اور اگر ان مبلغین کو بھی شامل کر لیا جائے ، جو بیرونی ممالک کے مبلغین کی جگہ بھجوانے کے لئے تیار کئے جائیں گے تو یہ تعداد ایک سو دس تک پہنچ جاتی ہے۔لیکن اگر ہماری جماعت اس کو اہم کام قرار دے کر مطمئن ہو جائے اور اس کا دل اس تبلیغ پر تسلی پا جائے تو میں اس کو جنون سے کم نہیں سمجھوں گا۔حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا میں تبلیغ کرنے کے لئے ہمیں ہزاروں مبلغوں کی ضرورت ہے۔مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مبلغ کہاں سے آئیں اور ان کے اخراجات کون برداشت کرے؟ میں نے بہت سوچا ہے مگر بڑے غور فکر کے بعد سوائے اس کے اور کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا کہ جب تک وہی طریق اختیار نہیں کیا جائے گا، جو پہلے زمانوں میں اختیار کیا گیا ، اس وقت تک ہم بھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔350