تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 23

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اپریل 1940ء ہجرت کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے اپنا پورا وقت خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے دینے کا عہد کیا ہوا ہے۔پس مہاجر ہونے کے لحاظ سے ان پر دوسروں سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔جو شخص کہتا ہے کہ میں ہجرت کر کے آیا ہوں اور پھر ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتا ہے کہ میں اپنا وقت خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے دینے کو تیار نہیں وہ مہاجر نہیں بلکہ تارک وطن ہے۔جیسے انگریز بعض دفعہ اپنا وطن ترک کر کے امریکہ چلے جاتے ہیں یا آسٹریلیا چلے جاتے ہیں، اسی طرح وہ بھی مہاجر نہیں بلکہ تارک وطن ہیں۔جنہوں نے اپنے وطن کی رہائش ترک کر کے قادیان کی رہائش اختیار کی ہوئی ہے۔پس ہر شخص جو ہجرت کے مفہوم کو سمجھتا اور صحیح معنوں میں مہاجر کہلانا چاہتا ہے۔اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے اوقات کو ایسے طور پر خرچ کرے کہ ان کا زیادہ سے زیادہ حصہ دین کی خدمت میں صرف ہو۔یہی ہجرت کی غرض ہوتی ہے اور یہی غرض انہیں ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنی چاہیے۔پس قادیان کی جماعت کو میں خصوصیت سے اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اوقات زیادہ سے زیادہ وقف کریں۔میں نے بتایا ہے کہ ہم نے دوستوں کی سہولت کے لئے شرائط کو بہت سخت نہیں رکھا بلکہ ہفتہ ہفتہ بھی اگر مجبوری ہو تو محکمہ قبول کر سکتا ہے۔البتہ میرے نزدیک تبلیغ کو زیادہ نتیجہ خیز اور مؤثر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ سوائے اشد مجبوری کے کم از کم دو ہفتے ہر شخص سے وقت لیا جائے گا۔پس میرے نزدیک دوستوں کو دو ہفتہ سے لے کر دو تین مہینہ تک وقت دینا چاہیے اور یہ کوئی ایسا زیادہ وقت نہیں جس کا بارہ مہینوں میں سے نکالنا مشکل امر ہو۔اگر کوئی شخص سال کے بارہ مہینوں میں سے کم از کم دو ہفتے بھی اس فریضہ کی ادائیگی کے لئے صرف نہیں کر سکتا تو وہ جہاد جیسے فریضہ کو بھلا دینے والا ہو گا۔سوائے ان لوگوں کے جو مصنف ہیں یا مبلغ ہیں یا مقرر، واعظ اور خطیب ہیں۔انہیں چونکہ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں بھی جہاد کا موقعہ ملتا رہتا ہے اس لئے وہ اس فریضہ کے تارک نہیں سمجھے جائیں گے۔مگر دوسرے لوگ جنہیں اس قسم کے مواقع نہیں ملتے ، وہ اگر تبلیغ میں حصہ نہیں لیتے تو وہ ایک اہم فریضہ کو ادا نہ کرنے والوں میں شمار ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور گناہ گار ٹھہرتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں خدا تعالیٰ کے فضل سے لوگوں پر اس قد را تمام حجت ہو چکی ہے کہ اگر ایک نظام کے ماتحت ہماری تمام جماعت تبلیغ میں لگ جائے تو پانچ سات سال کے اندر ہی کئی اضلاع کی اکثریت احمدی ہو سکتی ہے۔جو نئے علاقے ہیں ان میں بے شک احمدیت کی تبلیغ کرتے وقت مشکلات پیش آتی ہیں مگر جو علاقے احمدیت کی تعلیم سے واقف ہو چکے ہیں۔ان کے متعلق دیکھا گیا ہے کہ ذرا زور دینے سے ان میں 23