تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 343
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم ملفوظات فرموده یکم مئی 1944ء بغیر معاوضہ کے تبلیغ کریں چاہے درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کرنا پڑے فرمایا:۔ملفوظات فرموده یکم مئی 1944ء ”میری تحریک پر ہماری جماعت کے بہت سے دوستوں نے اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کی ہیں۔میں سمجھتا ہوں، شاید قادیان میں سے ہی ساٹھ ستر بلکہ اس سے بھی زیادہ نو جوانوں نے اپنی زندگی وقف کی ہے۔وقف کا جو مفہوم اس وقت تک عمل میں آرہا ہے، اس کے لحاظ سے میں نے تبلیغی اخراجات کا ایک معمولی سا اندازہ لگایا ہے اور غور کیا ہے کہ اگر دنیا کے ایک معتد بہ حصہ میں ، جس طرح پانی کا ایک چھینٹا دے دیا جاتا ہے، اسی طرح اگر ہم چھینٹے کے طور پر ہی تبلیغ کریں تو جماعت پر مالی لحاظ سے کتنا بار پڑ جاتا ہے؟ اخراجات کا وہ معمولی اندازہ بھی ایسا ہے، جو در حقیقت ہماری جماعت کی موجودہ حالت کے لحاظ سے ایک اچھا خاصہ بوجھ ہے۔مثلاً سب سے پہلے تبلیغی نقطہ نگاہ سے ہمارے سامنے ہندوستان ہے۔ہندوستان ، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے مامور کی بعثت کے لئے منتخب فرمایا ہے، اس میں اس وقت گیارہ صوبے ہیں۔سندھ ، سرحد، پنجاب، یوپی، بہار، اڑیسہ، بنگال ہی پی، بمبئی ، مدراس، آسام۔یہ وہ صوبے ہیں، جو گورنروں کے صوبے ہیں۔ان کے علاوہ بلوچستان ہے، وہ بھی ایک مستقل ملک ہے۔اگر اس کو ملا لیا جائے تو بارہ بن جاتے ہیں۔پھر بعض بڑی بڑی ریاستیں ہیں، جو کہ در حقیقت صوبوں کی قائمقام ہیں۔جیسے کشمیر، حیدر آباد، میسور، بڑودہ ، گوالیار اور ٹرانکور ہیں۔بارہ وہ اور چھ یہ اٹھارہ ہو گئے۔اس کے بعد درمیانی درجہ کی ریاستوں میں سے بیکانیر ہے، جے پور ہے، جودھ پور ہے۔یہ سب ریاستیں مل کر کئی صوبوں کے برابر ہو جاتی ہیں۔اگر ان میں چار مرکز بھی مقرر کئے جائیں تو بائیں مقامات ہو گئے ، جہاں ہمیں اپنے تبلیغی مراکز قائم کرنے چاہئیں۔اگر ایک ایک مبلغ فی صوبہ مقرر کیا جائے تو میں مبلغ رکھنے پڑتے ہیں۔مگر ان میں سے کئی صوبے ایسے ہیں، جو خاص توجہ کے محتاج ہیں اور کسی نہ کسی وجہ سے ان میں تبلیغ کرنا بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔مثلاً 343