تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 334
اقتباس از خطبه جمعه 14 اپریل 1944ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم کوششوں کے نتیجہ میں تم اسلام کا غلبہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو گے، یہ ناممکن ہے۔اگر تمہاری کوشش اور جدوجہد کی یہی رفتار رہی تو تم اپنی زندگی میں یوم جزا کو نہیں دیکھ سکو گے۔یہ معنی اگر لئے جائیں تو یہ بھی کوئی خوش کن معنی نہیں۔مگر جو معنی اس وقت میں نے سمجھے ، وہ یہی تھے کہ روز جزا قریب ہے، مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے تم سے اسلام اور احمدیت کے غلبہ کے متعلق ، جو وعدے فرمائے ہیں، ان کے پورا ہونے کا وقت آگیا۔آسمان پر فرشتوں کی فوجیں اس دن کو لانے کے لئے تیار کھڑی ہیں مگر جو کوشش تم کر رہے ہو، وہ بہت ہی حقیر اور بہت ہی ادنی اور معمولی ہے۔جب ہم نے پنے فضل کا دروازہ کھول دیا، جب آسمان سے فرشتوں کی فوجیں زمین میں تغیر پیدا کرنے کے لئے نازل ہو گئیں، جب کفر کی بربادی کا وقت آپہنچا، جب اسلام کے غلبہ کی گھڑی قریب آگئی تو اس وقت تم اگر پوری طرح تیار نہیں ہو گے، تم نے اپنے اندر کامل تغیر پیدا نہیں کیا ہو گا تم نے اپنی اصلاح کی طرف پوری توجہ نہیں کی ہوگی تو نتیجہ یہ ہوگا کہ تم اس دن سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہ جاؤ گے اور اسلام کی دائمی ترقی میں روک بن جاؤ گے۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ جس پانی کو سنبھالا نہ جائے ، وہ بجائے فائدہ پہنچانے کے لوگوں کو تباہ کر دیتا ہے؟ جس دودھ کو محفوظ نہ رکھا جائے ، وہ پھٹ جاتا ہے؟ وہی پانی فائدہ پہنچاتا ہے، جس کو سنبھالا جائے اور وہی دودھ انسان کو طاقت بخشتا ہے ، جس کو پھٹنے سے محفوظ رکھا جائے۔پھٹا ہوا دودھ کس کام آسکتا ہے؟ گرا ہوا سالن کون استعمال کرتا ہے؟ کتے کے آگے پڑی ہوئی روٹی کون کھا سکتا ہے؟ اسی طرح اگر ہم نے اس دودھ کو محفوظ نہ رکھا، جو خدا نے ہمارے لئے نازل کیا ہے۔اگر ہم نے اس کھانے کی حفاظت نہ کی ، جو خدا نے ہمیں دیا ہے۔اگر ہم نے اس پانی کو نہ سنبھالا، جو خدا نے آسمان سے اتارا ہے تو یہ پانی اور یہ دودھ اور یہ کھانا ہمارے لئے ایک طعنہ کا موجب بن جائے گا۔کیونکہ ہمیں چیز تو ملی مگر ہم نے اس کی قدر نہ کی۔پس میں آج پھر خدا تعالیٰ کے اس پیغام کو جماعت تک پہنچا تا ہوں۔پہلے میری طرف سے ہی گھبراہٹ تھی اور میں جماعت کو بار بار کہتا تھا کہ جلد جلد بڑھو، جلد جلد اپنا قدم آگے کی طرف بڑھاؤ مگر اب خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی یہ گھبرا دینے والا پیغام آگیا ہے کہ روز جزا قریب ہے اور رہ بعید ہے جزا کا دن بہت قریب ہے مگر تمہاری راہ بہت بعید ہے۔اب چاہے اس کے یہ معنی سمجھ لو کہ ہر شخص کی موت کا دن اس سے زیادہ قریب ہے، جتنا قریب اس کے اعمال کے نتیجہ میں اسلام کی فتح آسکتی ہے۔اگر وہ اسی چال پر چلتے رہے تو ان کا یہ خیال کرنا کہ اسلام کی فتح کا دن ان کی آنکھوں کے سامنے آ 334