تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 335

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه 14 اپریل 1944ء جائے گا، ناممکن ہے۔رفتار بہت ست ہے، کوششیں بہت محدود ہیں مگر زندگی کے ایام تھوڑے ہیں۔اور اگر چاہو تو اس الہام کے یہ معنی سمجھ لو کہ میں نے تم سے اسلام کی ترقی اور احمدیت کا غلبہ کے متعلق جس قدر وعدے کئے تھے، ان تمام وعدوں کو پورا کرنے کے سامان میں مہیا کر چکا ہوں۔وہ وعدے اب عنقریب ظہور پذیر ہونے والے ہیں۔مگر اے مومنو! اگر قریب ترین عرصہ میں تم نے اس آنے والے دن کے لئے کوئی تیاری نہ کی تو تم ان نعمتوں کو سنبھال نہیں سکو گے۔نعمتیں تو آئیں گی مگر بجائے اس کے کہ تم ان پر قابض رہو، وہ تمہارے ہاتھ سے نکل جائیں گی ، وہ زمین پر بکھر جائیں گی ، وہ تباہ و برباد ہو جائیں گی۔پھر خدا ایک نیا نظام قائم کرے گا اور اس نئے نظام کے ذریعہ اپنی ان نعمتوں کو دوبارہ واپس لانے کے سامان مہیا کرے گا۔کیونکہ جو نعمتیں ایک دفعہ کسی قوم کے ہاتھ سے نکل جائیں ، وہی قوم ان نعمتوں کو دوبارہ کبھی حاصل نہیں کر سکتی۔دنیا کی تاریخ میں یہ کہیں بھی نظر نہیں آتا کہ ایک قوم کے ہاتھ سے جب کوئی نعمت نکل گئی ہو تو پھر وہی قوم اس نعمت کو سمیٹ سکی ہو۔اس وقت بحیثیت قوم ان نعمتوں کو سمیٹا نہیں جاسکتا۔ہاں افراد ایک ایک دانہ چنتے اور استعمال کرتے رہتے ہیں۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی امت محمدیہ میں بعض بڑے بڑے بزرگ ہوئے۔مثلاً حضرت سید عبد القادر صاحب جیلانی ، حضرت معین الدین صاحب چشتی ، حضرت سید احمد صاحب سرہندی، حضرت ولی اللہ شاہ صاحب دہلوی، حضرت شہاب الدین ، صاحب سہروردی اور اسی طرح اور ہزاروں اولیاء امت محمدیہ میں ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی روحانی نعماء فائدہ اٹھاتے رہے۔مگران کی مثال ایسی ہی تھی جیسے مرغاز مین پر سے ایک ایک دانہ چن کر کھاتا ہے۔انہوں نے بھی نعمتوں کے ایک ایک دانے زمین سے چنے اور استعمال کئے مگر سونے سے بھری ہوئی کانیں، موتیوں سے بھرے سمندر اور لعل و جواہرات اور ہیروں کے انبار ان کے زمانہ میں نہ رہے۔انہوں نے جس قدر انعامات حاصل کئے ، انفرادی انعامات تھے، قومی انعامات نہیں تھے۔لیکن انبیاء کے زمانہ میں تمام قوم کو انعامات میں سے حصہ دیا جاتا ہے۔پس اگر یہ معنی اس الہام کے ہیں تو یہ بھی تکلیف دہ ہیں۔دنیا نے بڑا انتظار کیا ایک ایسی ہدایت کا ، جو اسے نور سے بھر دے۔دنیا نے بڑا انتظار کیا اس جنگ کا ، جو شیطان کو ہمیشہ کے لئے آخری شکست دے دے۔لیکن اگر اس جنگ میں شیطان کو فرشتے شکست بھی دے دیں اور مومن آگے نہ بڑھیں تو شیطان پھر واپس لوٹ آئے گا اور پھر اسلام کے قلعہ پر قبضہ کر لے گا۔اسی قلعہ میں دشمن واپس نہیں آیا کرتا، جس کے متعلق وہ جانتا ہو کہ اس میں غنیم کی فوجیں جمع ہیں۔لیکن اگر فرشتوں نے شیطان کا قلعہ سر کر لیا اور 335