تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 328
اقتباس از خطبہ نکاح فرموده 10 اپریل 1944ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم ہوتا ، اگر خدا کے لیے وہ حقیقی معنوں میں اپنی زندگی کو وقف کر چکا ہوتا تو پھر اسے یہ کوئی خیال نہیں آنا چاہیے تھا کہ اس کی شادی کسی امیر کے ہاں ہوتی ہے یا چوہڑوں اور چماروں کے ہاں ہو جاتی ہے؟ اگر اس نے دنیا چھوڑ دی ہے تو دنیا چھوڑنے کی علامت بھی تو اس میں نظر آنی چاہیئے۔وو د۔۔۔پس میں ان میں بھی دنیا داری دیکھتا ہوں اور ان میں بھی دنیا داری دیکھتا ہوں۔وہ شخص جو کہتا ہے کہ جس نے دین کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی ہے، میں اسے اپنی لڑکی کیوں دوں؟ اور وہ اسے تحقیر و تذلیل کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ جب یہ اپنے آپ کو دین کے لیے وقف کر چکا تو روٹی کہاں سے کھائے گا؟ اس کے نقطہ نگاہ کے معنی یہ بنتے ہیں کہ جو شخص خدا کے لیے اپنی زندگی وقف کرتا ہے وہ حقیر ہے مگر جو انگریز کو اپنی زندگی دے دیتا ہے، وہ معزز ہے۔جو شخص انگریز کو اپنی زندگی دے دیتا ہے اور صوبے دار یا تحصیل دار یا ای۔اے ہی بن جاتا ہے وہ تو بڑا معزز ہے مگر وہ جو خدا کے لیے اپنی زندگی وقف کرتا ہے، وہ نعوذ باللہ بڑا ذلیل ہے۔گویا دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس سے زیادہ معزز کون ہے، جو انگریزوں کا غلام بن جائے ؟ اور اسے زیادہ ذلیل کون ہے ، جو بندوں کی نوکری چھوڑ کر خدا کی نوکری لگ جائے؟ اس کے مقابلہ میں جب ایک واقف زندگی کے دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ میری شادی فلاں مالدار کے گھر میں ہو جائے یا میری شادی فلاں کھاتے پیتے شخص کی لڑکی سے ہو جائے اور اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ منہ سے تو کہتا ہے کہ اس نے دنیا کو چھوڑ دیا مگر عملی طور پر وہ دنیا کا ہی پرستار ہے۔اگر واقعہ میں اس نے دنیا کو چھوڑ دیا ہوتا، اگر واقعہ میں وہ اپنے تمام ارادوں اور اپنی تمام نیتوں کو خدا کے تابع کر چکا ہوتا تو اس صورت میں اگر ایک چوہڑی سے بھی اسے شادی کرنی پڑتی تو وہ خوشی سے شادی کے لیے تیار ہو جاتا اور کہتا کہ اگر خدا میرے لیے ایک چوہڑی پسند کرتا ہے تو مجھے وہ چوہڑی منظور ہے۔اگر اللہ تعالیٰ میرے لیے ایک چمارن کا فیصلہ کر دیتا ہے تو مجھے اپنے لیے وہ چہارن منظور ہے۔جس چیز کی اسے ضرورت ہو سکتی ہے، وہ یہ ہے کہ ایسی بیوی ہو، جو تعلیم یافتہ ہو اور اس تہذیب و تمدن کی حامل ہو، جس تہذیب و تمدن کا وہ خود حامل ہے۔پس اگر کسی لڑکی میں یہ تمام باتیں پائی جاتی ہیں، وہ دین سے واقفیت رکھتی ہے، وہ تعلیم یافتہ ہے، وہ اسلامی تہذیب و تمدن کی حامل ہے اور یہ سب چیزیں اس میں پائی جاتی ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس رشتہ کے متعلق نا پسندیدگی کا اظہار کرے اور کہے کہ مجھے وہ منظور نہیں کیونکہ وہ غریب ہے۔بے شک شریعت نے پسندیدگی کی شرط رکھی ہے۔بے شک شریعت نے اس امر کو جائز قرار دیا ہے کہ تم اپنی رغبت کو بھی دیکھ لو اور پھر فیصلہ کرو کہ تمہیں کہاں رشتہ منظور ہے؟ یہ شرط نبی کے لیے بھی ہے اور 328