تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 322
خطبه جمعه فرمودہ 31 مارچ 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم چاہتا ہے کہ اس کا مال اس کے قبضہ میں ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھرسن لو، وہ مال ، جو تم خدا کے لئے خرچ کرتے ہو، وہ تمہارا ہے اور وہ مال ، جو تم خدا کے لئے خرچ نہیں کرتے ، وہ تمہارے رشتہ داروں کا ہے۔تم مرجاؤ گے تو تمہارے رشتہ دار آئیں گے اور اس مال پر قبضہ کر کے لے جائیں گے۔پس یا درکھو! وہ زندگی ، جو تم خدا کے لئے خرچ کرتے ہو، وہی تمہاری زندگی ہے۔لیکن وہ زندگی، جو تم اپنے نفس کے لئے خرچ کرتے ہو، وہ ضائع چلی گئی۔جو شخص خدا کے لئے اپنی زندگی قربان کرتا ہے، وہ چاہے کتنی ہی گمنامی کی زندگی بسر کرے، چاہے دنیا میں اسے کوئی شخص نہ جانتا ہو، آسمان پر خدا اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا اور اس کو اپنے قرب میں عزت و احترام کی جگہ دیتا ہے۔پس مت خیال کرو کہ دین کے لئے اپنی زندگی قربان کرنا ، زندگی کو ضائع کرنا ہے۔یہ زندگی کو ضائع کرنا نہیں بلکہ اسے ایک قیمتی اور ہمیشہ کے لئے قائم رہنے والی چیز بنانا ہے۔صحابہ کو دیکھو! انہوں نے اپنی زندگیاں دین کے لئے قربان کر دیں مگر پھر ایک وقت ایسا آیا جب اسلام یورپ سے ایشیا تک پھیل گیا۔اس وقت امراء ہی نہیں ، اسلام کے علماء بھی کروڑ پتی بن چکے تھے۔مگر پھر انہی امراء اور انہی علماء نے مل کر ایک ایک صحابی کا پتہ لگایا اور اس کے حالات کو کتابوں میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا۔یہاں تک کہ وہ عورت، جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کی مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی، اس کا بھی انہوں نے پتہ لگایا اور اس کے حالات زندگی انہوں نے کتابوں میں درج کر دیئے۔کیا تم سمجھتے ہو ، اگر وہ عورت مدینہ کی بڑی بھاری تاجر ہوتی اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحابیت کا شرف اسے حاصل نہ ہوتا تو یہ عزت اسے حاصل ہو سکتی ؟ اگر وہ کروڑ پتی ہوتی تب بھی کوئی شخص اس کے حالات سے دلچسپی نہ رکھتا اور آج کسی کو معلوم تک نہ ہوتا کہ مدینہ میں کوئی کروڑ پتی عورت تھی۔لیکن تیرہ سو سال کے بعد آج بھی اس جھاڑو دینے والی عورت کے حالات ہمیں کتابوں میں نظر آرہے ہیں۔جب وہ مرگئی تو ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حال لوگوں سے پوچھا۔انہوں نے جواب دیا، یارسول اللہ فلاں عورت تو مرگئی اور ہم نے اسے دفن کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، تم نے مجھے کیوں نہ بتایا؟ تمہیں چاہئے تھا کہ تم مجھے بتاتے تاکہ میں اس کے جنازہ میں شریک ہو سکتا۔تو وہ لوگ جو دین کی خدمت کرتے ہیں، دنیا میں ہمیشہ کے لئے ان کی عزتیں قائم کر دی جاتی ہیں۔بیشک یہ کہنا کہ مجھے عزت ملنی چاہئے شرم کی بات ہے۔مومن ایسا مطالبہ نہیں کیا کرتا لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں ہ اللہ تعالی کی طرف سے ان کی عزت دنیا میں ضرور قائم کی جاتی ہے۔322