تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 321
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مارچ 1944ء دے کر اس ملک میں تبلیغ کے لئے بھجوادیا جائے گا۔وہاں انگریزی میں تبلیغ کرنی ضروری ہوتی ہے۔گو اعلی درجہ کی انگریزی نہ آئے مگر ٹوٹی پھوٹی انگریزی ضرور آنی چاہئے۔اسی طرح کسی قدر عربی کا آنا ضروری ہوتا ہے تا کہ اسلامی مسائل ان کو سمجھائے جاسکیں۔پس وہ لوگ جن کو کچھ کچھ عربی اور کچھ کچھ انگریزی آتی ہو ، وہ اس غرض کے لئے اپنے نام پیش کریں تا کہ ان کو فوراً افریقہ میں بھجوایا جا سکے۔دیکھو! وہ لوگ خرچ بھی کس قدر کفایت سے کرتے ہیں؟ ہمارے مبلغ نے لکھا ہے کہ یہاں چالیس روپیہ میں ایک شخص کا گزارہ ہو جاتا ہے اور لکھا ہے کہ اگر چھ مہینے تک جماعت ان بارہ مبلغین کا خرچ برداشت کر لے تو اس کے بعد مقامی جماعتیں خود اس بوجھ کو اٹھا لیں گی۔میں خدا تعالیٰ کے فضل سے چھ مہینے نہیں سال بلکہ دو سال تک بھی ان کے گزارہ کا انتظام کر سکتا ہوں۔اس کے بعد وہاں کی جماعتیں ان کے اخراجات کا بوجھ خود برداشت کر سکتی ہیں۔بہر حال افریقہ کے ہزاروں لوگ ہمیں پکار رہے ہیں کہ ہم اسلام کی تبلیغ کے لئے ان کے پاس پہنچیں۔سیرالیون، جس کا صدر مقام فری ٹاؤن ہے۔ایک نہایت ہی اہم مقام ہے۔اگر اسلام وہاں سرعت کے ساتھ پھیل جائے تو تمام افریقہ پر اس کا اثر ہوسکتا ہے۔اسی طرح گولڈ کوسٹ اور نائجیر یا میں اسلام پھیل جائے تو قریبا تمام مغربی افریقہ فتح ہو جاتا ہے۔وہاں کی ساری آبادی ایک کروڑ ہے اور یہ ایک کروڑ افراد اگر خدا چاہے تو چند سالوں میں ہی احمدی ہو سکتے ہیں اور یہ اتنی بڑی تعداد ہے، جو ہماری موجودہ حالت کے لحاظ سے ایک غیر معمولی تعداد ہوگی۔پس میں آج کے خطبہ میں جماعت کے دوستوں کے سامنے یہ دو تحریکیں پیش کرتا ہوں۔میں زیادہ تر وقف زندگی کی تحریک کرنے کے لئے ہی آیا تھا اور یہی وہ امر تھا، جس کے لئے میں بیماری کی حالت میں اٹھ کر چلا آیا۔میں کہہ نہیں سکتا کہ اس وقت مجھے بخار ہے یا نہیں کیونکہ بولنے کی وجہ سے مجھے اس کی حس نہیں رہی لیکن منہ کا ذائقہ خراب ہے، جس سے میں سمجھتا ہوں کہ شاید بخار ہو۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری جماعت کے افراد کو ایسی توفیق عطا فرمائے کہ وہ اخلاص کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں اور ان میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ زندگی وہی ہے کہ جو دین کے لئے قربان ہو جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ صحابہ سے پوچھا کہ تم کو وہ مال پسند ہے، جو تمہارے کسی رشتہ دار کے ہاتھ میں ہو یا تم کو وہ مال پسند ہے، جو تمہارے اپنے ہاتھ میں ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا۔یا رسول اللہ! کون ایسا شخص ہو سکتا ہے، جو اس بات کو پسند نہ کرے کہ مال اس کے اپنے ہاتھ میں ہو؟ ہر شخص یہی 321