تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 313

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مارچ 1944ء ہے۔پھر میں نے دیکھا کہ نہر کا بند ٹوٹ گیا اور میں بھی نہر کے اندر جا پڑا۔جب میں نہر کے اندر گر گیا تو میں نے تیرنا شروع کیا، یہاں تک کہ میلوں میل میں تیرتا چلا گیا مگر میرا پاؤں کہیں نہ لگا، یہاں تک کہ میں نے سمجھا، میں تیرتے تیرتے فیروز پور تک پہنچ گیا ہوں۔تب گھبراہٹ کی حالت میں ہی میں دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ سندھ میں تو پیر لگ جائیں اور جب میں نے یہ دعا کی تو مجھے معلوم ہوا کہ سندھ آگیا ہے۔پھر جو میں نے کوشش کی تو پیر ٹک گیا اور پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے سب پانی غائب ہو گیا۔یہ رویا 15 ء میں میں نے دیکھا تھا۔اس وقت سندھ میں نہروں کا نام ونشان بھی نہ تھا۔اس کے ایک لمبے عرصہ کے بعد وہاں نہریں نکلیں اور ہم نے یہ زمین خریدنی شروع کر دی۔تو اللہ تعالیٰ نے سندھ میں ہمیں اتنی بڑی زمین دے دی ہے کہ اگر پنجاب میں اتنی ہی زمین کسی زمیندار کول جاتی تو اس کے لئے شادی مرگ ثابت ہوتی۔ساری عمر لوگ گورنمنٹ کی خوشامد میں کرتے رہتے ہیں اور پھر انہیں اگر پانچ یا دس مربعے مل جائیں تو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ گورنمنٹ نے ان کی سات پشتوں کی قدر افزائی کر دی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے گھر بیٹھے ہمیں قریبا چار سو مربع زمین دے دیا۔چار سو میں پندرہ میں مربع کی کمی ہے مگر وہ انشاءاللہ جلدی پوری ہو جائے گی۔میری نیت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ کی ہزاروں مربع زمین بن جائے۔اسی طرح اور کئی کام میرے ذہن میں ہیں اور میں چاہتا ہوں ، ان کاموں میں اس قدر وسعت ہو اور ان ذرائع سے ہمیں اس قدرآمد ہو کہ سلسلہ کے وہ تمام کام ، جو میں نے کرنے ہیں، آسانی اور سہولت سے ہو جائیں۔مگر اس کے لئے مخلص آدمیوں کی ضرورت ہے۔لیکن یا درکھو کہ آمد کی زیادتی کے ہرگز یہ معنی نہیں ہیں کہ کسی وقت تم اپنے چندوں سے آزاد ہو جاؤ گے یا کوئی وقت جماعت پر ایسا بھی آجائے گا، جب تم سے قربانی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔میں ایک انسان ہوں اور آخر ایک دن ایسا آئے گا، جب میں مرجاؤں گا اور پھر اور لوگ اس جماعت کے خلفاء ہوں گے۔میں نہیں جانتا اس وقت کیا حالات ہوں؟ اس لئے میں ابھی سے تم کو نصیحت کرتا ہوں تا کہ تمہیں اور تمہاری اولادوں کو ٹھوکر نہ لگے کہ اگر کوئی خلیفہ ایسا آیا، جس نے یہ سمجھ لیا کہ جب جماعت کو زمینوں سے اس قد رآمدنی ہو رہی ہے، تجارتوں سے اس قدر آمدنی ہو رہی ہے، صنعت و حرفت سے اس قدر آمدنی ہو رہی ہے تو پھر اب جماعت سے کسی اور قربانی کا مطالبہ کی کیا ضرورت ہے؟ اس قدر روپیہ آنے کے بعد ضروری ہے کہ جماعت کی مالی قربانیوں میں کمی کر دی جائے تو تم یہ سمجھ لو وہ خلیفہ خلیفہ نہیں ہوگا بلکہ اس کے یہ عنی ہوں گے کہ خلافت ختم ہوگئی اور اب کوئی اسلام کا دشمن پیدا ہو گیا ہے۔اور جس دن تمہاری تسلی اس 313