تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 308

خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مارچ 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم ہونا چاہئے ، تب ہم پانچ ہزار مبلغ رکھ کر انہیں دنیا میں پھیلا سکتے ہیں۔لیکن ابھی تو ہماری یہ حالت ہے کہ اگر ہم اپنی ساری جائیداد میں بیچ دیں، تب بھی ساری عمر میں ایک دفعہ بھی اتنا روپیہ خرچ نہیں کر سکتے۔اگر ان مبلغوں کی تعداد کو کم کر دیا جائے اور ہم سر دست صرف دو سو مبلغ رکھیں ، تب بھی تم سمجھ لو کہ ساٹھ ہزار روپیہ ماہوار ان کے کھانے پینے پر خرچ آئے گا۔جس کے معنی یہ ہیں کہ دوسو مبلغین کا سالانہ خرچ سات لاکھ میں ہزار ہوگا۔دواڑھائی لاکھ روپیدا گر لٹریچر کی اشاعت اور دوسرے ضروری اخراجات کے لئے رکھ لیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہمارے پاس دس لاکھ روپیہ سالا نہ ہو تو ہم دوسو مبلغ رکھ سکتے ہیں۔لیکن ابھی تو ہمارے سارے بجٹ ملا کر یعنی تحریک جدید کی آمد اور صدر انجمن احمدیہ کی آمد اور دوسری آمد ملا کر دس بارہ لاکھ روپیہ کی رقم بنتی ہے اور اگر ہم اس وقت دو سو مبلغ رکھ لیں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ہم باقی سارے کام بند کر دیں۔حالانکہ ہمارا کام صرف تبلیغ کرنا نہیں بلکہ جماعت کی تربیت کرنا بھی ہے۔پس ضروری ہے کہ اس کے لئے علاوہ چندوں کے ہمارے پاس مستقل جائیدادیں ہوں ، جن کی آمد سے اس قسم کے اخراجات کو پورا کیا جا سکے۔اسی لئے میں نے تحریک جدید جاری کی تھی اور اسی لئے میں نے تحریک جدید کے چندہ کے ذریعہ جائیدادیں بنائی ہیں۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جائیداد میں تو بن گئیں لیکن جتنا حصہ جماعت میں سے کام کرنے والے آدمیوں کا تھا، وہ مجھے نہیں ملا۔چنانچہ اس وقت تک جتنے آدمی میں نے سندھ کی زمینوں پر کام کرنے کے لئے بھجوائے ہیں، وہ سارے کے سارے ناکام رہے ہیں۔در حقیقت آج کل جو ایک عام زمیندار کو آمد ہو رہی ہے، اس سے بھی ہماری زمینوں کی آمد کم ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمیں ابھی تک کام کرنے والے آدمی نہیں ملے۔میں سمجھتا ہوں اگر ایک شخص عام زمیندار کی حیثیت سے کام کرے ، تب بھی پندرہ بیس من فی ایکڑ کپاس ہو سکتی ہے اور اگر سلسلہ کا کام سمجھ کر کوئی شخص محنت سے کام کرے تو 30-25 من فی ایکڑ بھی ہوسکتی ہے۔مصر میں 25 من فی ایکڑ کی اوسط نکالی گئی تھی مگر ایسا اسی صورت میں ہو سکتا ہے، جب کام کرنے والے محنتی ہوں، دیانتدار ہوں ، سلسلہ کے اموال کی اہمیت کو سمجھتے ہوں اور تقویٰ اور اخلاص سے کام کرنے والے ہوں۔محمود آباد میں جہاں میری زمین ہے ، وہاں ایک دفعہ ایک کھیت میں سے پچاس من فی ایکڑ کپاس نکلی کیونکہ کام کرنے والے نے محنت اور دیانتداری سے کام کیا۔پس محنت سے فصل کو بڑھایا جا سکتا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ سلسلہ کے کاموں پر اس وقت تک جو لوگ گئے ہیں، وہ ایسے ست اور غافل اور بد دیانت ثابت ہوئے ہیں کہ وہاں اوسط پیداوار پانچ من کی ہوئی ہے کیونکہ محنت سے کام نہیں لیا گیا تھا۔میں نے 308