تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 306

خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مارچ 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم عظیم الشان حکمت ان الفاظ میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہمیشہ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے، جو پروانوں کی طرح آپ پر جانیں قربان کرتے رہیں گے۔جس طرح لیمپ روشن ہو تو پروانے اس پر گرنے لگ جاتے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ہمیشہ امت محمدیہ میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے، جو پروانوں کی طرح شمع محمدی پر قربان ہوتے رہیں گے۔مگر پروانے اس زمانہ میں ہوتے ہیں، جب برسات کا موسم ہو۔یہ نہیں ہوتا کہ موسم خواہ کوئی ہو، جب بھی لیمپ جلایا جائے، پروانے اس پر گرنے لگیں۔پروانوں کے نکلنے کا موسم برسات ہے۔اسی طرح عالم روحانی میں جب بھی برسات کا موسم ہوگا، جب آسمان سے الہام الہی کی تازہ بارش نازل ہوگی ، اس زمانہ میں ایسی جماعت پیدا ہو گی، جو پروانوں کی طرح محمد صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنی جانیں قربان کر دے گی۔دیکھو! ہر زمانہ میں پروانے شمع پر نہیں گرتے بلکہ برسات کے موسم میں گرتے ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سِراجاً منیرا کہہ کر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا تھا کہ جب نور نبوت ظاہر ہو گا، جب الہام کی بارش آسمان سے اترے گی ، جب عالم روحانی میں برسات کا موسم ہوگا، اس وقت ایسے لوگ پیدا ہوں گے ، جو پروانے بن بن کر محمد صلی الہ علیہ وآلہ وسلم کی شمع پر قربان ہو جائیں گے۔اس سے پہلے زمانوں میں قرآن بے شک موجود تھا، لا اله إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کہنے والے مسلمان بے شک موجود تھے ، دعائیں اور عبادتیں کرنے والے لوگ بے شک پائے جاتے تھے مگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چراغ پر پروانے نہیں گر رہے تھے۔لیکن ادھر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا اور ادھرمحمد صلی اللہ علیہ وسلم پر پروانے گرنے لگ گئے۔کیونکہ یہ الہام اور وحی کی بارش کا وقت تھا۔پس سِراجاً منبرا کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جب بھی بارش وحی اور بارش الہام نازل ہوگی، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پروانے گرنے شروع ہو جائیں گے۔جو آپ کی صداقت اور راستبازی کا ایک ثبوت ہوگا کہ الہام ہوتا ہے ”ب“ پر اور پروانے گرنے لگ جاتے ہیں ”الف“ پر۔گویا یہ ثبوت ہوگا آپ کی صداقت کا اور یہ ثبوت ہوگا اس بات کا کہ آنے والا آپ کے شاگردوں اور آپ کے متبعین میں سے ہی ہے۔وہ اس چمپنی کی طرح ہوگا، جو روشنی کے ارد گرد ہوتی ہے۔بے شک چمنی روشنی کو پھیلا رہی ہوتی ہے مگر پروانوں کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ چمنی کو چیر کر روشنی تک پہنچ جائیں اور ا گرسنگی روشنی ہو تو وہاں وہ پہنچ جاتے اور شمع پر گر کر اپنی جان قربان کر دیتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے ہماری ترقی کے سامان تو پیدا کئے ہیں مگر ہماری جماعت نے ابھی اپنے کام کی اہمیت کو پورے طور پر سمجھا نہیں۔مثلاً میں نے اعلان کیا تھا کہ ہمیں تبلیغ کے لئے ایسے نو جوانوں کی ضرورت ہے، جو اپنی زندگی اس غرض کے لئے وقف کر دیں۔یہ کام اپنی ذات میں اس قدر اہم ہے کہ ہم اس پر جتنا 306