تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 305
خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مارچ 1944ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم نہیں ہوتے۔مثلاً مونگا ایک کیڑا ہے، جس کے نام پر کٹی جزائر آباد ہیں۔مونگے میں عادت پائی جاتی ہے کہ زمینیں پیدا کرنے کے لئے ایک مونگا دوسرے مونگے پر چڑھ کر جان دے دیتا ہے۔سمندر کی تہہ میں لاکھوں مونگے ہوتے ہیں۔دس میں ہزار مونگے ایک دوسرے پر چڑھ کر مر جاتے ہیں۔پھر ان پر دس ہیں ہزار اور مونگے چڑھ کر مر جاتے ہیں۔ان پر دس بیس ہزار اور مونگے چڑھ کر جان دے دیتے ہیں۔یہاں تک کہ ہوتے ہوتے سمندر کی تہہ، جو بعض دفعہ دو دو، تین تین میل گہری ہوتی ہے، ان مونگوں سے بھر جاتی اور وہاں زمین پیدا ہو جاتی ہے۔چنانچہ ایک دن انہی مونگوں کے مرنے سے وہاں ایک جزیرہ آباد ہو جاتا ہے۔جہاں درخت اگتے ہیں، کھیتیاں ہوتی ہیں، مکانات بنتے ہیں اور ہزاروں لوگ رہائش رکھتے ہیں۔اس قسم کے بیسیوں جزائر ہیں، جو دنیا میں پائے جاتے ہیں۔کورل آئی لینڈز (Coral Islands) انہی کو کہتے ہیں اور وہ اسی طرح بنتے ہیں کہ ایک کثیر تعداد کو رلز کی مرکز جان دے دیتی ہے۔جن پر اور لاکھوں کروڑوں کو رلز چڑھ کر جان دے دیتے ہیں اور رفتہ رفتہ ان کی قربانی سے ایک زمین آباد ہو جاتی ہے۔پس تعجب کی بات ہے کہ ہمارے اندر ایک کو رل جتنی قربانی کا مادہ بھی نہ ہو اور ہم یہ خیال کریں کہ جب تک ہماری قربانیوں کا ہماری ذات کو فائدہ نہ ہو اس وقت تک قربانیاں کرنا بے معنی ہے۔تمہیں اس مثال کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ اگر تم مر جاتے ہو اور تمہاری قربانیوں سے دوسویا چار سو سال کے بعد جماعت کو فائدہ پہنچتا ہے تو تمہاری قربانی رانگاں نہیں گی بلکہ اللہ تعالی کے حضور مقبول ہوگئی۔پھر ہمارے لئے تو ایک زائد بات یہ بھی ہے کہ جو شخص مرجاتا ہے، اسے اپنی قربانیوں کا مرتے ہی انعام ملنا شروع ہو جاتا ہے۔پھر قربانیوں کی ایک اور مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔برسات کا موسم ہو اور تم لیمپ روشن کرو تو تم دیکھتے ہو کہ کس طرح پروانے اس پر گر گر کر مرتے چلے جاتے ہیں؟ ہمارے شاعروں نے تو شمع اور پروانے کا اپنے اشعار میں اس قدر ذ کر کیا ہے کہ کوئی شاعر ایسا نہیں ، جس کے کلام میں شمع اور پروانے کا قصہ نہ آتا ہو۔پھر تمہیں سوچنا چاہئے کہ کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دین کا حسن ہماری نظروں میں ایک شمع جیسا بھی نہیں ، جو چھ پیسے کو مل جاتی ہے؟ اور کیا ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام سے اتنی محبت بھی نہیں، جتنی ایک پروانے کو شمع سے ہوتی ہے؟ اگر محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا حسن ہم کو شمع جیسا بھی نظر نہیں آتا اور اگر اپنا عشق ہم کو پروانے جیسا بھی نظر نہیں آتا تو سچی بات یہی ہے کہ ہم نے اس حسن کو دیکھا ہی نہیں اور ہم نے اپنے عشق کو سمجھاہی نہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن تو کروڑوں شمعوں سے زیادہ ہے۔اسی لئے قرآن کریم نے آپ کو سِراجاً منیر اقرار دیا ہے اور سراج منیر قرار دینے میں جہاں اور حکمتیں ہیں، وہاں ایک 305