تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 304

خطبه جمعه فرمودہ 31 مارچ 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم - اور ادھر اس کے ہونٹ خشک ہو جاتے ہیں اور وہ پھر کہتا ہے اور پانی دو۔یہاں تک کہ پانی پیتے پیتے بعض دفعہ اس کا پیٹ پھول جاتا ہے، اس کے پیٹ میں پانی کے لئے گنجائش تک نہیں رہتی مگر وہ یہی کہتا جاتا ہے کہ پیاس لگی ہے اور پانی دو ؟ اب کیا تم ایسے نظارہ کو دیکھ کر یہ سمجھنے لگتے ہو کہ پانی میں پیاس بجھانے کی طاقت نہیں رہی یا تم خود اس شخص کو مریض تصور کرتے ہو؟ تم کبھی یہ نہیں کہتے کہ پانی میں پیاس بجھانے کی طاقت نہیں رہی۔یہ پانی پیتا ہے اور پھر اسے پیاس لگ جاتی ہے بلکہ تم کہتے ہو یہ پینے والے کا قصور ہے، اس کے اندر کوئی نقص پیدا ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے پانی اس پر اثر نہیں کرتا۔پس جس قوم میں نمونہ موجود ہوا اور اس نمونہ سے یہ ظاہر ہورہا ہو کہ خدا کی طرف توجہ کرنے اور اس کے لئے اپنے نفس کی قربانی کرنے سے آسمان سے برکات نازل ہوتی ہیں۔اس قوم کے بعض افراد اگر اسی راستہ پر چلتے ہوئے برکات وانوار کا مشاہدہ نہ کریں تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ رستہ ہی غلط ہے بلکہ یہی کہا جائے گا کہ خود اس کی قربانیوں میں کوئی نقص ہے ورنہ رستہ صحیح ہے اور وہی ایک طریق ہے، جس پر چل کر برکت حاصل ہو سکتی ہے۔مگر میں کہتا ہوں اگر نتیجہ نہ بھی نکلے تو بھی ایک مومن کا یہ کام نہیں کہ وہ قربانی کو ترک کر دے۔خدا تعالیٰ کے بعض کام ایسے ہوتے ہے، جن کے نتائج سالوں بعد ظاہر ہوتے ہیں۔حضرت مسیح ناصری نے قربانی کی اور وہ صلیب پر چڑھ گئے۔مسیح کے بعد پطرس، جو آپ کا خلیفہ ہوا اور جو آپ کا بڑا مقرب حواری تھا۔یہاں تک کہ آپ نے ایک دفعہ کہا میری جماعت کے لئے یہ ایک پہاڑ کی طرح ہے۔وہ روم میں گیا اور اسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔اسی طرح اور بہت سے لوگ آپ کی جماعت میں سے مارے گئے۔مگر جو دنیوی ترقیات ہیں وہ تین سو سال کے بعد مسیحی قوم کو حاصل ہوئیں۔اب کیا مسیح نے صلیب پر لٹکنے سے اس لئے انکار کر دیا کہ میرے زمانہ میں تو حکومتیں نہیں آئیں گی، میں نے صلیب پر لٹک کر کیا لینا ہے؟ یا کیا پطرس نے اس وجہ سے اپنی جان قربان کرنے سے انکار کر دیا کہ جب مجھے حکومت میں حصہ نہیں ملے گا تو میں اپنی جان کیوں قربان کروں؟ نہیں بلکہ مسیح نے بھی صلیب کا مزہ چکھا اور پطرس نے بھی اپنی جان قربان کر دی اور اس طرح یکے بعد دیگرے اور ہزاروں لوگ قربانیاں کرتے چلے گئے۔کیونکہ وہ جانتے تھے ہماری ترقیاں شخصی نہیں، قومی ہیں اور قومی ترقیاں قربانیوں کے بعد بعض دفعہ دودو بلکہ تین تین سو سال کے بعد حاصل ہوتی ہیں۔دیکھو ! خدا تعالیٰ کی قدرت کا دنیا میں ہمیں ایک عجیب نظارہ نظر آتا ہے۔قدرت نے کئی جاندار چیزیں ایسی پیدا کی ہیں، جو دنیا کے لئے قربانی کر رہی ہیں مگر خود ان کو ان قربانیوں کے کوئی نتائج حاصل 304