تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 303
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مارچ 1944ء فرض ہے کہ ہم اور زیادہ قربانیاں کریں اور زیادہ جدو جہد سے کام لیں تاکہ ہماری جو اندرونی اور باطنی کمزوریاں ہیں ، ان کا کچھ کفارہ ہماری ظاہری کوششیں کر دیں۔میں دیکھتا ہوں ، ہماری جماعت میں کچھ لوگ ایسے ہیں، جن کو ہندوؤں کی طرح ہر وقت سودے کا خیال رہتا ہے۔جس طرح ہند و سودا کرنے کے بعد یہ سوچنے لگ جاتے ہیں کہ انہیں کیا نفع ہوا ؟ اسی طرح وہ چند دن روزے رکھتے ہیں اور پھر پوچھتے ہیں، اس کا کیا نتیجہ نکلا ؟ کچھ دن تضرع اور ابتہال سے نمازیں پڑھتے ہیں اور پھر دیکھنے لگ جاتے ہیں کہ ان نمازوں سے انہیں کیا فائدہ حاصل ہوا ؟ بے شک غیر احمدی یہ کہنے کا حق رکھتے ہیں کہ اگر ہم نمازیں پڑھتے ہیں تو انکا کیا نتیجہ نکلا ؟ کیونکہ انہیں کہیں بھی نتیجہ نظر نہیں آتا۔لیکن ہماری جماعت تو وہ ہے، جس نے اپنی آنکھوں سے خدا تعالیٰ کے ایک مامور کو دیکھا اور اس کی زندگی میں خدا تعالیٰ کے ہزاروں نشانات کو آسمان سے اترتے مشاہدہ کیا۔پھر اب بھی ہماری جماعت میں وہ لوگ موجود ہیں، جن کو ان کی نمازوں اور ان کے روزوں اور ان کے چندوں کا نتیجہ مل گیا۔کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ ان سے کلام کرتا ہے، ان کی تائید میں اپنے نشانات ظاہر کرتا ہے، ان کے دشمنوں کو مارتا اور تباہ کرتا ہے، ان کے دوستوں کو برکت دیتا ہے، انہیں ہر میدان میں فتح عظیم عطا کرتا ہے، انہیں روحانی علوم سے سرفراز کرتا ہے، قرآن کریم کے معارف ان پر کھولتا ہے، انہیں غیب کی خبروں سے اطلاع دیتا ہے؟ اور کون سا نتیجہ ہے، جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں؟ اور اگر ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ابھی ظاہر نہیں ہوا تو انہیں کم سے کم یہ تو یقین ہونا چاہئے کہ وہ جس راستہ پر چل رہے ہیں ، وہ صحیح ہے۔اگر اس راستہ پر چلنے کے باوجود ان کے اعمال کا نتیجہ ظاہر نہیں ہوا تو بجائے اس کے کہ وہ یہ کہیں کہ ان اعمال کا نتیجہ کیا نکلا؟ انہیں اپنے نفس سے سوال کرنا چاہئے کہ اے نفس ! تم نے کیا کمزوری دکھائی کہ ہمارے اعمال نیک کا کوئی نتیجہ ظاہر نہیں ہوا؟ یہ تو نہیں مانا جاسکتا کہ وہ اعمال اپنا نتیجہ ظاہر نہیں کرتے۔تم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہو کہ تمہارے سامنے بعض وجودوں میں وہ نتائج ظاہر ہو گئے۔پس اگر تمہاری ذات میں وہ نتائج ظاہر نہیں ہوئے تو تمہیں یقین کر لینا چاہئے کہ اس میں تمہارا اپناہی قصور ہے۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ پانی میں پیاس بجھانے کی طاقت ہے۔جو شخص بھی اسے پیتا ہے، اس کی پیاس بجھ جاتی اور اس کی روح تروتازہ ہو جاتی ہے لیکن بخار کا مریض پانی پینے کے باوجود اپنی پیاس کو بجھتا ہوا محسوس نہیں کرتا۔وہ پانی پیتا ہے اور دو منٹ کے بعد پھر کہتا ہے پانی دو۔پھر پانی دیا جاتا ہے تو دو منٹ کے بعد پھر کہتا ہے پانی دو تم اسے پانی پلائے جاتے ہومگر اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ ادھر وہ پانی پیتا ہے 303