تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 294
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 مارچ 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم تو اگر ہم اس سے ایسا مطالبہ نہ کریں گے تو ہو سکتا ہے کہ اس کے بیٹے اور اولادیں لے لیں۔پس پیشتر اس کے کہ اس طرح مومنوں کے مال ضائع ہوں، کیوں نہ دین کے لئے انہیں لے لیا جائے؟ پس اسی رؤیا کے ماتحت میں نے اس وقف کی تحریک کی اور دوستوں کو چاہیے کہ اس تحریک میں حصہ لیں۔یہ وقف ایسا ہے کہ ہم یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ ہمیں جائیداد میں دے دو۔صرف پابند کرتے ہیں کہ جب اور جتنا مطالبہ کیا جائے گا؟ وہ پیش کر دیں گے۔یہ ادنیٰ سے ادنی قربانی ہے۔یہ اقرار تو دراصل وہ ہے، جو ہر شخص احمدیت میں داخل ہوتے وقت کرتا ہے۔اور اب ایسا کرنا گویا اس اقرار کود ہرانا ہے، جو ہر احمدی نے جماعت میں داخل ہوتے وقت کیا تھا اور اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس کا بیعت کے وقت کا اقرار مصنوعی نہ تھا۔بلکہ وہ جماعت کو اختیار دیتا ہے کہ جب اس کے اموال کی ضرورت ہو ، وہ لے سکتی ہے۔پس میں جماعت کو اس کی طرف پھر توجہ دلاتا ہوں کیونکہ ابھی بہت ساحصہ جماعت کا ایسا ہے، جس نے ابھی اس پر غور نہیں کیا۔یہ میں نہیں کہتا کہ ہر شخص ایسا کرے، ہاں جسے خدا تعالی بشاشت قلب عطا کرے اور توفیق دے، وہ ضرور اس میں حصہ لے۔ہاں جو بوجھ محسوس کرے اور جو سمجھتا ہے کہ اگر اس نے ایسا کیا اور اس کے بیوی بچے اس پر معترض ہوئے تو اسے پچھتانا پڑے گا، وہ نہ حصہ لے۔صرف وہی حصہ لیں، جو سمجھتے ہیں کہ خواہ بیوی بچے یا عزیز ترین رشتہ دار بھی اس پر ناراض ہوں ، اسے کوئی پروا نہیں اور جسے اس قربانی کے بعد افسوس نہیں ہوگا بلکہ بشاشت حاصل ہوگی اور جسے یہ خیال نہ آئے گا کہ اس سے ایسا مطالبہ کیوں کیا گیا ؟ بلکہ اسے یہ افسوس ہوگا کہ اس سے سارا مال کیوں نہیں لے لیا گیا؟ قربانی وہی فائدہ دے سکتی ہے، جو بشاشت کے ساتھ کی جائے اور یہ بشاشت میں نے دیکھا ہے، زیادہ تر غریبوں کو حاصل ہوتی ہے۔میری تحریک کے بعد بعض غریب عورتیں میرے پاس آئیں اور اپنے زیور پیش کئے کہ یہ لے لیں ، ایسا نہ ہو کہ ہم خرچ کرلیں اور پھر حصہ نہ لے سکیں۔میں نے کہا کہ ابھی ہم اس طرح نہیں لے رہے۔ایک عورت نے تو ایک اور عورت کے پاس اپنے زیور رکھ دیئے کہ جب ضرورت ہو ، دے دیئے جائیں۔ایسا نہ ہو کہ اس کے پاس ہوں تو خرچ ہو جائیں۔ایمان کی علامت یہی ہوتی ہے کہ انسان اپنی جان، مال، سب کچھ دین کی راہ میں قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہی فرمایا ہے کہ اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے اموال اور ان کی جانیں جنت کے عوض ان سے خرید لی ہیں۔پس جنت کا ملنا اس امر پر موقوف ہے کہ ہم اپنی جانیں اور اپنے مال دین کی راہ میں وقف کر دیں۔294