تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 293
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 مارچ 1944ء دلاتا ہوں، وقت بہت تھوڑا اور کام بہت زیادہ ہے۔پس دوست جلد اس تحریک میں اپنے نام پیش کریں تا ہم اندازہ کرسکیں کہ ضرورت کے وقت علاوہ انجمن اور تحریک جدید کے بجٹ کے کتنا و پی میں مل سکتا ہے؟ میرا اندازہ ہے کہ جماعت کے دوستوں کی آمد ماہوار پچاس ساٹھ لاکھ روپیہ ہے اور اگر دوست توجہ کریں تو کافی روپیہ ملنے کی امید ہو سکتی ہے۔یہ کام ابھی آہستہ آہستہ شروع ہوگا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ربانی کام وہی ہے، جو تھوڑا شروع ہو کر ترقی کرتا ہے۔غالبا ہم ابھی اس تحریک کے ماتحت اشد ضرورت کے وقت ایک فیصدی تک حصہ لینا شروع کریں گے۔مگر مومن کی نیت یہی ہونی چاہیے کہ اگر ساری جائیداد کی بھی دین کے لئے ضرورت ہو تو اسے دینے میں کوئی عذر نہ ہوگا۔مجھے ایک رویا میں اس تحریک کی طرف توجہ دلائی گئی تھی۔میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک عورت ہے، جس کا خاوند نیک ہے مگر وہ خود نیک نہیں۔اس کا ایک بیٹا ہے، وہ اس سے کہتی ہے کہ تیرا باپ اسراف بہت کرتا ہے۔اگر اس سے کوئی ایک پیسہ مانگے تو پیسہ دے دیتا ہے، اگر وہ دو آنے مانگے تو دو آنے دے دیتا ہے اور وہ اس قسم کا ہے کہ اگر کوئی اس سے سارا مال مانگے تو وہ سارا دے دے گا۔اور وہ اپنے بیٹے سے کہتی ہے کہ آؤ ، ہم اس سے سارا مال مانگ لیں۔وہ ہمیں دے دے گا تو پھر وہ دین کی راہ میں اس مال کو لٹا نہ سکے گا۔میں نے رویا میں دیکھا کہ میں جماعت کے دوستوں کے سامنے عربی میں تقریر کر رہا ہوں اور یہ مثال دیتا ہوں کہ اس طرح ایک نیک آدمی تھا مگر اس کی بیوی نیک نہ تھی۔اس کا ایک بیٹا تھا، جو میں نہیں کہ سکتا کہ خود نیک تھا یا برا۔مگر اس کی ماں یہ ضرور بجھتی تھی کہ وہ اسے اپنا آلہ کار بنا سکے گی۔وہ اسے کہتی ہے کہ تیرے باپ سے کوئی جو کچھ مانگے ، وہ اسے دے دیتا ہے اور ڈر ہے کہ اگر اس سے کوئی سارا مال دین کے لئے مانگے تو وہ سارا مال دے دے گا۔اس لئے آؤ، ہم اس سے سارا مال مانگ لیں۔اس طرح وہ خدا کی راہ میں اسے خرچ نہ کر سکے گا اور ہمیں نقصان نہ ہوگا۔یہ مثال دے کر میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ ایسے فتنے بھی آدمی کو پیش آسکتے ہیں، ان سے ہشیار رہو۔میں یہ کہہ ہی رہا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی اور میں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے بھی ہیں، جو دین کی راہ میں اپنا سارا مال خرچ کرنے کو تیار ہیں۔مگر یہ بھی خطرہ ہے کہ ان کی بیویاں اور بچے ان کے لئے فتنہ بن جائیں۔پس پیشتر اس کے کہ وہ فتنہ بنیں، کیوں نہ ہم ہی ان سے دین کے لئے ان کی جائیدادیں طلب کریں؟ حقیقت یہ ہے کہ جب تک انسان ایمان کے اس درجہ پر قائم نہ ہو، اس وقت تک وہ صحیح معنوں میں دین کو دنیا پر مقدم کرنے والا نہیں ہو سکتا۔اس رؤیا نے مجھے اس طرف توجہ دلائی کہ جب مومن دین کے لئے سب کچھ خرچ کرنے کو تیار ہے 293