تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 292
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 مارچ 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم کا لے لیا جائے تو پوری ہو سکتی ہے۔تو جس نے ایک ہزار کی جائیداد وقف کی ہے، اس سے دس روپیہ کا مطالبہ کیا جائے گا اور جس کی دس ہزار کی جائیداد ہے، اس سے ایک سوکا اور جس کی ایک لاکھ کی ہے، اس سے ایک ہزار اور جس نے دس لاکھ کی جائیداد وقف کی ہے، اس سے دس ہزار کا مطالبہ کیا جائے گا۔اور کہا جائے گا کہ اتنے عرصہ میں یہ روپیہ داخل کر دو۔جس کے پاس روپیہ ہو، وہ اپنے حصہ کا روپیہ ادا کر دے لیکن جس کے پاس نہ ہو، اس کی جائیداد کو رہن کر کے اس کے حصہ کا روپیہ وصول کر لیا جائے گا اور اس طرح مطلو به خرچ چلایا جائے گا۔پس جائیداد میں وقف کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنی جائیداد میں انجمن کو دے دیں۔صرف یہ اقرار کریں کہ جو چندہ ان کے ذمہ ڈالا جائے گا، اسے ادا کریں گے۔اگر کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ مثلاً ایک کروڑ روپیہ کی ضرورت ہے اور وقف شدہ جائیداد میں دو کروڑ روپیہ کی مالیت کی ہیں تو پچاس فیصدی کا مطالبہ کر لیا جائے گا۔جس کی جائیداد دس لاکھ کی ہوگی ، اسے پانچ لاکھ اور جس کی دس ہزار کی ہوگی ، اسے پانچ ہزار دینا ہو گا۔مگر یہ ابھی دور کی بات ہے۔فی الحال میرا خیال ہے کہ ایک سے دس فیصدی تک کی ہی چند سالوں تک ضرورت پیش آسکتی ہے۔جن کی جائیداد میں نہیں ہیں ، ان کے دل میں اگر خواہش ہو کہ وہ بھی اس تحریک میں شامل ہوں تو وہ اپنی آمدنیاں وقف کر سکتے ہیں۔اور ایسے بھی بعض دوست ہیں، جنہوں نے آمدنیاں وقف کی ہیں۔کسی نے کا ایک ماہ کی کسی نے دو کی کسی نے تین کی اور بعض تو ایسے ہیں، جنہوں نے سال بھر کی آمد نیاں ہی وقف کی ہیں اور لکھا ہے کہ جب سلسلہ کو ضرورت ہو تو ہم سارے سال کی آمد دینے کو تیار ہیں خواہ ہمیں بھیک مانگ کر ہی گزارہ کرنا پڑے۔جب ہم سے مطالبہ کیا جائے گا، ہم سارے سال کی آمد پیش کر دیں گے۔اگر دوست اس تحریک کی طرف پوری توجہ کرتے تو تین چار کروڑ روپیہ کی جائیداد میں وقف ہونا مشکل نہ تھا۔پس دوست اس طرف توجہ کریں۔مگر اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ عام چندوں پر اس کا اثر نہ ہو۔یہ تحریک طوعی ہے اور ہر شخص کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ چاہے تو اس میں حصہ لے تا زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کر سکے۔جب کوئی چیز جماعت کے نظام میں داخل ہو جائے تو ہر شخص کو اس میں حصہ لینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے اور وہ ہو بھی جاتے ہیں مگر ان کا ثواب اس قدر نہیں ہوتا۔اس لئے میں نے یہ تحریک محض طوعی رکھی ہے، کسی پر جبر نہیں کہ اس میں حصہ لے۔اب میں پھر قادیان کے ان دوستوں کو ، جنہوں نے ابھی تک اس تحریک میں حصہ نہیں لیا مگر حصہ لینے کی خواہش رکھتے ہیں تحریک کرتا ہوں کہ اس میں شامل ہوں اور بیرونی جماعت کے دوستوں کو بھی توجہ 292