تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 283
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از تقریر فرمود : 17 مارچ 1944ء اللہ تعالیٰ کے نور پر فدا ہونے کے لئے تیار ہو جاؤ تقریر فرمودہ 17 مارچ 1944ء بر وفات حضرت میر محمد اسحاق صاحب وو اکثر لوگ خدا تعالیٰ کے لئے زندگی وقف کرنا اور کام کرنا نہیں جانتے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا پر حزن و غم کی چادر پڑی رہتی ہے۔اگر سب کے سب لوگ دین کی خدمت کرتے اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں لگے ہوتے تو دنیا کا عرفان اور علم ایسے بلند معیار پر آجا تا کہ کسی قابل قدر خادم اسلام کی "" وفات پر جو یہ احساس پیدا ہوتا ہے اور یہ فکر لاحق ہوتا ہے کہ اب ہم کیا کریں گے؟ یہ کبھی نہ ہوتا۔۔۔اگر ہماری جماعت کا ہر شخص ویسا ہی بنے کی کوشش کرتا تو آج یہ احساس نہ پیدا ہوتا جب ہر شخص اپنی ذمہ داری کو سمجھتا ہوتو کسی کارکن کی وفات پر یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ اب ہم کیا کریں گے؟ بلکہ ہر شخص جانتا ہے کہ ہم سب یہی کر رہے ہیں۔عزیز اور دوست کی جدائی کا غم تو ضرور ہوتا ہے مگر یہ احساس نہیں ہوتا کہ اب اس کا کام کون سنبھالے گا ؟“ اگر اور لوگ بھی ایسے ہوتے تو بے شک ان کی وفات کا صدمہ ہوتا۔ویسا ہی صدمہ جیسا ایک عزیز کی وفات کا ہوتا ہے مگر جماعتی پہلو حفوظ ہوتا۔اور یہ دیکھ کر کہ اگر ایک آدمی فوت ہو گیا ہے تو خواہ وہ کسی رنگ کا تھا، اس کی جگہ لینے والے کئی اور موجود ہیں، جماعت کے لوگ مایوس نہ ہوتے اور وہ سمجھتے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت نے ایک آدمی ہم سے لے لیا ہے تو اس کے کئی قائمقام موجود ہیں۔مگر قحط الرجال ایسی چیز ہے کہ جو لوگوں کے دلوں میں مایوسی پیدا کر دیتی ہے اور جب کام کا ایک آدمی فوت ہوتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ اب کیا ہوگا ؟ اور دشمن بھی کہتا ہے کہ اب یہ جماعت تباہ ہو جائے گی ، اب اس کا کام چلانے والا کوئی نہیں۔لیکن اگر ایک کے بعد کام کرنے والے کئی موجود ہوں تو پھر نہ اپنوں میں مایوسی پیدا ہوتی ہے اور نہ دشمن کو خوش ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔پس اگر جماعت کے دوست اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھتے تو آج جو یہ گھبراہٹ پائی جاتی ہے، نہ ہوتی۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے بر وقت سمجھ دی اور میں نے نوجوانوں کو زندگیاں وقف کرنے کی تحریک کی ، جس کے ماتحت آج نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔لیکن ہمارا کام بہت وسیع ہے۔ہم نے 283