تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 284
اقتباس از تقریر فرموده 17 مارچ 1944ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم دنیا کو صحیح علوم سے آگاہ کرنا ہے اور اس کے لئے ہزار ہا علماء درکار ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب جماعت اتنی بڑھ رہی ہے کہ آٹھ دس علماء تو ہر وقت ایسے چاہئیں ، جو مرکز میں رہیں اور مختلف مساجد میں قرآن وحدیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درس با قاعدہ جاری رہے اور اس طرح نظر آئے کہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم میں زندہ موجود ہیں۔اب کام اتنا بڑھ گیا ہے کہ خود خلیفہ اسے سنبھال نہیں سکتا۔اگر قرآن کریم کا درس ہم میں جاری رہے تو گویا زندہ خدا ہم میں موجود ہوگا ، اگر حدیث کا درس جاری رہے تو گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں زندہ ہوں گے، اگر کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا درس جاری رہے تو گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم میں زندہ ہوں گے۔سو یہ کتنی بڑی غفلت ہے ، جو جماعت سے ہوئی۔میں تو اس کا خیال کر کے بھی کانپ جاتا ہوں۔کتنے تھوڑے لوگ تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یاد گار تھے اور اب تو وہ اور بھی بہت کم رہ گئے ہیں۔اگر ان کے مرنے سے پہلے پہلے جماعت نے اس کمی کو پورا نہ کیا تو اس نقصان کا اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا، جو جماعت کو پہنچے گا۔ذرا غور کرو ہمارے سامنے کتنا بڑا کام ہے اور کتنی بڑی کوتاہی ہے، جو جماعت سے ہوئی۔پس اب بھی سنبھلو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یادگار لوگ اب بہت تھوڑے رہ گئے ہیں اور شاید تھوڑے ہی دن ہیں۔پھر میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا کوئی وعدہ نہیں کہ میری عمر کتنی ہوگی ؟ اور کتا ن مصلح موعود کی پیشگوئی پورے ہونے کے بعد بھی ہوسکتا ہے، ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے مجھ سے جتنا کام لینا ہو، لے لیا ہو۔پس یہ بڑے خطرات کے دن ہیں، اس لئے سنبھلو اور اپنے نفسوں سے دنیا کی محبت کو سرد کر دو اور اپنے دین کی خدمت کے لئے آگے آؤ اور ان لوگوں کے علوم کے وارث بنو، جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت پائی تا تم آئندہ نسلوں کو سنبھال سکو تم لوگ تھوڑے تھے اور تمہارے لئے تھوڑے مدرس کافی تھے مگر آئندہ آنے والی نسلوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگی اور ان کے لئے بہت زیادہ مدرس درکار ہیں۔پس اپنے آپ کو دین کے لئے وقف کر دو اور یہ نہ دیکھو کہ اس کے عوض تمہیں کیا ملتا ہے۔جو شخص ید دیکھتا ہے کہ اسے کتنے پیسے ملتے ہیں؟ وہ کبھی خدا تعالیٰ کی نصرت حاصل نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ کی نصرت اسی کو ملتی ہے ، جو اس کا نام لے کر سمندر میں کود پڑتا ہے۔چاہے موتی اس کے ہاتھ میں آجائے اور چاہیے وہ مچھلیوں کی غذا بن جائے۔پس مومن کا کام عرفان کے سمندر میں غوطہ لگا دینا ہے، وہ اس بات سے بے پر واہ ہوتا ہے کہ اسے موتی ملتے ہیں یا وہ مچھلیوں کی غذا بنتا ہے“۔284