تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 270

خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1943ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم نمایاں حصہ لیا کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ان کا قدم ہمیشہ آگے بڑھے۔مگر یہ سال چونکہ تحریک جدید کے پہلے دور کا آخری سال ہے، اس لئے میری خواہش ہے کہ وہ لوگ ، جو اپنے دلوں میں اخلاص رکھتے اور خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کا شوق رکھتے ہیں۔وہ اس سال ایسی نمایاں قربانی کریں، جو اس سے پہلے انہوں نے سلسلہ اور اسلام کے لئے کبھی نہ کی ہو۔میں کسی کو کوئی ایسا بوجھ اٹھانے کیلئے نہیں کہتا، جسے وہ اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا۔میں صرف یہ کہتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے اب تک پورا بوجھ نہیں اٹھایا اور قربانی کو اس کے صحیح اور حقیقی معیار تک نہیں پہنچایا۔وہ اس سال ایسے رنگ میں قربانی کریں ، جس کی مثال پہلے کسی سال میں نہ مل سکے۔میں اپنے متعلق یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ چونکہ یہ تحریک جدید کا آخری سال ہے اور میرا جماعت کے مخلصین سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ اس سال پہلے تمام سالوں کے مقابلہ میں زیادہ قربانی کریں۔اس لئے میں نے بھی اپنے پچھلے سال کے چندہ سے ساڑھے تین گنا زیادہ چندہ لکھوا دیا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ یہ تحریک جس طرح اپنے دور میں ایسا نرالا رنگ رکھتی ہے، جس کی مثال جماعت کے پہلے دوروں میں نہیں ملتی۔اس لئے کہ یہ تحریک ان چندوں کے علاوہ ہے، جو جماعت کو علیحدہ طور پر دینے پڑتے ہیں اور کوتحریک جدید کے چندہ کی مقدار جماعت کے دوسرے سال بھر کے چندوں سے کم دیتی ہے۔مگر یہ چندہ دوسرے چندوں کے ساتھ مل کر جماعت کی مالی قربانی کی ایسی شاندار مثال پیش کرتا ہے، جس کی نظیر اور کہیں نظر نہیں آتی۔اسی طرح میں چاہتا ہوں کہ تحریک جدید کا یہ آخری سال جماعت کی قربانی کے لحاظ سے ایک غیر معمولی سال ہو اور جس طرح تحریک جدید کی مثال اور کسی تحریک میں نہیں ملتی ، اسی طرح تحریک جدید کے آخری سال کی مالی قربانی کی مثال جماعت کی سابقہ قربانیوں کے لحاظ سے کسی اور سال میں نظر نہ آئے۔بے شک آج کل لوگوں کو مالی تنگیاں ہیں، قحط پڑا ہوا ہے اور ضروریات زندگی نہایت گراں ہوگئی ہیں۔مگر ہماری جماعت کا اسی فیصد حصہ زمینداروں پر مشتمل ہے اور آج کل قحط کے ایام سے زمیندار متاثر نہیں ہوئے بلکہ ان کے پاس پہلے سے زیادہ روپیہ موجود ہے۔اس لئے زمینداروں کا وہ طبقہ، جو پہلے اس تحریک میں حصہ نہیں لے سکایا پہلے اس تحریک میں نمایاں حصہ نہیں لے سکا ، اس کے لئے موقع ہے کہ وہ آج اپنے اخلاص اور ایمان کا ثبوت دے کر ایسا مقام حاصل کرلے، جو ایمان اور سلوک کے راستہ میں اسے پہلے حاصل نہیں ہوا۔270