تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 271

تحریک جدید۔ایک البی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1943ء مجھے بہت کم ایسے مواقع دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے، جیسے میلوں وغیرہ کے مواقع ہوتے ہیں۔مگر بہر حال مجھے اپنی عمر میں ایک دو موقعے ابتدائی ایام میں ایسے ضرور ملے ہیں، جبکہ میں نے بعض مواقع دیکھے اور میں جانتا ہوں کہ ایسے موقع پر کس کس قسم کی کوششیں لوگ ایک ایک انچ آگے بڑھنے کے لئے کیا کرتے ہیں، کبھی وہ بڑھے زور سے اپنا گھٹنا آگے کھڑے ہونے والوں کے درمیان داخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ جب انہیں گھٹنا داخل کرنے کا موقع مل جائے تو وہ ایک دو انچ پہلوانوں کی کشتی یا میچ کا نظارہ دیکھنے کیلئے اور آگے بڑھ جائیں کبھی وہ پاؤں کی انگلیاں آگے گھسیڑتے ہیں کبھی کہنیوں سے رستہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی کمزورں کو دھکا دے کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور یہ ساری کوششیں صرف اس غرض کیلئے ہوتی ہیں کہ وہ چند منٹ کا کھیل دیکھنے کیلئے دوسروں سے ایک دو انچ آگے بڑھ جائیں۔جب دنیوی کھیلوں میں لوگ ایک ایک انچ آگے بڑھنے کیلئے اس قدر کوششیں کرتے ہیں تو ایک مومن کو غور کرنا چاہئے کہ اسے روحانی میدان میں دوسروں سے آگے نکل جانے کیلئے کس قسم کی کوششیں کرنی چاہئیں۔آج وہ دن ہے کہ ہمارا خدا اپنے جاہ وجلال کے ساتھ آسمان پر پھر دنیا کو اپنا دیدار کرانے کیلئے جلوہ فرما ہے، آج اس کا حسن دنیا پر ظاہر ہونا چاہتا ہے، اس کی طاقتیں دنیا کو اپنا جلوہ دکھانا چاہتی ہیں۔پس آج اس خدا کا دیدار کرنے اور دوسروں کو اس کا دیدار کرانے کیلئے ہمیں جس قدر کوشش، جس قدر سعی اور جس قدر جد و جہد کرنی چاہئے ، اس کے مقابلے میں وہ دنیوی میلے حیثیت ہی کیا رکھتے ہیں۔جن میں لوگ پہلوانوں کی کشتی دیکھنے کیلئے یا کرکٹ وغیرہ کا میچ دیکھنے کے لئے ایک ایک یا دو دو انچ دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کیا کرتے ہیں۔دنیا کی وہ کونسی چیز ہے، جو خدا تعالیٰ کے قرب سے زیادہ قیمتی ہو؟ دنیا میں بڑی سے بڑی چیز بادشاہت ہے، دولت ہے، لوگوں پر غلبہ اور اقتدار ہے، طاقت اور قوت ہے۔مگر ان میں سے کون سی چیز ہے، جس کو قربان کر کے اگر ہمیں خدا تعالیٰ کے قرب میں ایک انچ نہیں ایک انچ کا ہزارواں حصہ بھی آگے بڑھنے کا موقع مل سکے اور ہمیں اس کی محبت حاصل ہو جائے تو ہم یہ سمجھیں کہ ہم نے کوئی قربانی کی ہے یا ہم یہ خیال کریں کہ ہم نے کسی اعلیٰ چیز کو اپنے ہاتھ سے کھو دیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی محبت، اللہ تعالی کا پیار اور اللہ تعالی کا تعلق ایسی قیمتی چیزیں ہیں کہ دنیا کی کوئی چیز خواہ وہ کتنی بڑی ہو، اس کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور دنیا کی کوئی چیز خواہ بظاہر کتنی قیمتی ہو ، خدا تعالیٰ کے قرب کے ادنیٰ سے ادنی درجہ کے مقابلہ میں بھی بالکل پیچ اور بے حقیقت ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے قرب میں آگے بڑھنے کا تحریک جدید کے ذریعہ جو عظیم الشان موقع عطا فرمایا ہے، اس کو ضائع مت کرو۔آگے بڑھو اور خدا تعالیٰ کے ان بہادر سپاہیوں کی طرح ، جو جان 271