تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 15
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 105 اپریل 1940ء بھی بڑی قربانیاں کی ہیں مگر وہ قربانی جس کا بدلہ دنیا میں نہیں ملا، وہ انصار ہی کی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بات سن کر ان کے دلوں کی کیفیت کیا ہوگی؟ یہ ظاہر ہے۔وہ بے اختیار رونے لگے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ ایک نوجوان کی غلطی ہے۔آپ نے فرمایا کہ نہیں، یہ بات تم کہہ سکتے ہو۔مگر ایک اور بات بھی کہہ سکتے ہو۔اور وہ یہ کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مکہ میں پیدا ہوا۔اور اس کی پیدائش سے اللہ تعالٰی نے مکہ و عظمت عطا کی۔مگر مکہ والوں نے اس نعمت کی ناشکری کی اور اس کی ناشکری کی سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ اسے مکہ سے مدینہ لے گیا۔اور اس پر اپنے فضلوں کی بارش کی اور وہ اور اس کے ساتھی اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے بڑھنے لگے۔حتی کہ انہوں نے مکہ کو فتح کر لیا۔پھر مکہ والوں نے یہ امید کی کہ شائداب ہمارا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمیں دوبارہ مل جائے گا، مگر ہوا کیا؟ فتح مکہ کے بعد مکہ والے تو بھیڑ بکریاں اور اونٹ ہانک کر لے گئے اور انصار خدا تعالیٰ کے رسول کو اپنے ساتھ لے گئے۔پس میں بھی وہی کہتا ہوں جو میرے آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دوسرے لوگوں کو تو مال و دولت مل جاتا ہے۔مگر تم جو قربانیاں کرتے ہو۔ان کے نتیجہ میں تمہارا خدا تمہیں ملتا ہے اور یہ انعام کوئی معمولی انعام نہیں ہے۔اپنا اپنا نقطہ نگاہ ہے۔جو نادان اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ ان کی قربانیوں کے عوض ان کو دنیوی عزت اور مال و دولت حاصل ہو۔ان کا کوئی علاج میرے پاس نہیں۔جس کی روحانی نظر تیز ہے۔اس کے لئے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں اور پھر اگر دیکھا جائے تو ظاہری لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل ہم پر زیادہ ہو رہے ہیں۔پہلے سے بہت زیادہ مالدار لوگ اب ہم میں موجود ہیں، پہلے سے بہت بڑے عہدیدار ہم میں شامل ہیں اور پہلے سے بہت زیادہ عزت والے لوگ آج ہم میں موجود ہیں۔پھر غریبوں اور مسکینوں کے لئے جو انتظام یہاں ہیں ، وہ دنیا میں اور کسی جگہ نہیں۔اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو وہ محض حسد کی وجہ سے ہے۔ایک شخص سمجھتا ہے مجھے دس روپے ملنے چاہئیں مگر ملتے صرف دو ہیں۔وہ یہ نہیں سمجھتا کہ اگر وہ کسی اور جگہ ہوتا تو یہ دو بھی نہ مل سکتے۔اور حسد کی وجہ سے شکایت کرنے لگتا ہے۔میں کہتا ہوں دنیا کا کوئی اور ایسا شہر تو بتاؤ جہاں اس طرح لوگوں کے کھانے اور کپڑے کا انتظام ہوتا ہو، جیسا یہاں ہوتا ہے۔کوئی مالدار سے مالدار قوم ایسی نہیں جو غریبوں کی اس طرح پرورش کرتی ہو، جیسی ہم کرتے ہیں۔بے شک ہمارے ذرائع محدود ہیں، اس لئے ہم محدود امداد ہی کر سکتے ہیں۔یہ صحیح ہے کہ اسلامی حکومت میں ہر شخص کے لئے کھانے پہنے اور مکان کا انتظام حکومت کے ذمہ ہوتا ہے اور اگر خدا تعالیٰ ہمیں فراخی عطا کرے تو ہم بھی ایسا کریں گے۔مگر بہر حال دوسری قوموں کی نسبت ہماری موجودہ حالت 15