تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 14
خطبہ جمعہ فرمودہ 105 اپریل 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم چندہ ادا نہ کرنے والے کی سستی سے ہوا۔اور اس صورت میں اس کا سوروپیہ چندہ خدا تعالیٰ کے ہاں نوے روپیہ سمجھا جائے گا۔کیونکہ دس روپیہ جرمانہ اس کی سستی سے ہوا ہے۔پس دوست توجہ کریں اور اپنے وعدے جلد پورے کریں اور جو نہیں دے سکتے ، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی بار بیان کیا ہے۔اب بھی ان کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ معافی لے لیں۔اور جو طاقت رکھتے ہیں مگر ادا نہیں کر سکے، وہ اپنی اس غلطی کا ازالہ کریں بلکہ کفارہ کے طور پر کچھ زیادہ دیں۔جو دینے کا وعدہ کر چکے ہیں اور ارادہ رکھتے ہیں، انہیں چاہیے کہ ساتھ کے ساتھ کچھ نہ کچھ ادا کرتے جائیں تا سلسلہ کے کام میں نقص نہ واقع ہو۔میں جانتا ہوں کہ احمدیوں پر بوجھ زیادہ ہیں۔ان کی قربانیاں دوسروں سے بڑھی ہوئی ہیں۔مگر اس کے ساتھ یہ بات بھی ہے کہ ان کے لئے جو انعامات مقدر ہیں، وہ بھی دوسروں کے لئے نہیں۔بعض نادان کہتے ہیں کہ قربانیاں تو ہم کرتے ہیں مگر دنیوی انعام اور آرام و آسائش دوسروں کو حاصل ہیں۔مگر وہ نہیں جانتے کہ ان قربانیوں کے بدلہ میں ان کو تو خدا املتا ہے، اور دوسروں کو بھیڑ بکریاں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مکہ کو فتح کیا تو بہت سے نئے لوگ اسلام میں داخل ہو گئے اور اس کے بعد جو جنگ ہوئی اس میں کچھ اموال آئے تو آپ نے وہ مکہ کے نو مسلموں میں تقسیم کر دیئے۔مدینہ کا ایک نوجوان انصاری اپنی ناسمجھی کی وجہ سے صبر نہ کر سکا اور اس نے کہ دیا کہ یہ مجیب بات ہے کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور فتح ہماری وجہ سے ہوئی ہے مگر اموال رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ والوں میں تقسیم کر دیئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوبھی خبر پہنچی تو آپ نے انصار کو جمع کیا۔ان کو بھی علم ہو چکا تھا کہ ایسی رپورٹ آپ کو پہنچ چکی ہے۔وہ بہت گھبرائے ہوئے تھے انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ہمیں علم ہے کہ آپ نے ہمیں کیوں بلوایا ہے ؟ مگر ہم سب اس نوجوان کی اس بات کو سخت نا پسند کرتے ہیں۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصار! جو ہونا تھا، وہ ہو چکا۔انصار تم یہ کہہ سکتے ہو کہ جب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو اس کی قوم نے وطن سے نکال دیا، جب اپنے شہر میں اس پر زندگی تلخ کر دی، اس وقت ہم نے اس کے لئے اپنے شہر کے دروازے کھول دیئے اور اسے یہاں لے آئے ، پھر ہم اس کے دشمنوں کے ساتھ لڑے اور قربانیاں کرتے رہے، حتی کہ فتح حاصل کر لی۔مگر جب فتح حاصل ہو گئی تو اس نے اموال اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دیئے اور ہم خالی ہاتھ رہ گئے۔آپ نے فرمایا : اے انصار! بے شک تم یہ کہہ سکتے ہو۔یہ بات سن کر انصار جو اخلاص و قربانی کا ایک ہی نمونہ تھے بلکہ بعض رنگ میں ان جیسی قربانی کرنے والی کوئی اور قوم ملتی ہی نہیں۔بے شک مہاجرین نے 14