تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 266

خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1943ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم نہایت ہی محدود ہے۔مگر ہمارے ارادے بہت بڑے ہیں ہنتیں وسیع ہیں اور ہماری امنگیں کوئی انتہا نہیں رکھتیں۔مگر نتائج کو پیدا کرنا ہمارے اختیار میں نہیں ، صرف خدا کے اختیار میں ہے۔وہ اگر چاہے تو ان ارادوں، ان نیتوں اور ان امنگوں سے بھی زیادہ برکت پیدا فرما دے، جو ہمارے دل میں ہیں اور اگر چا ہے تو ہماری کسی غفلت کسی نادانی کسی بے وقوفی اور کسی حماقت کی وجہ سے ہماری قربانیوں کے اس حقیر ہدیہ کو ٹھکرا دے۔جیسے ایک ہیرا لاکھوں روپے کی مالیت کا ہوتا ہے۔مگر جب ایک ماہر فن اس ہیرے کو ششیے کا ایک معمولی ٹکڑا قرار دے دیتا ہے تو اس کی لاکھوں کی قیمت کوڑیوں تک آجاتی ہے اور ایک معمولی چیز سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔وہ لوگ جنہوں نے اس تحریک میں حصہ لیا ہے، وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس پیشگوئی کو پورا کرنے والے ہیں، جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو پانچ ہزار سپاہی دیئے جانے کی خبر دی گئی تھی اور واقعات بھی اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس طرح کشف میں دیکھا تھا کہ آپ کو پانچ ہزار سپاہی دیا گیا ہے۔یہی نظارہ ہمیں اس تحریک میں نظر آتا ہے۔ہماری جماعت خدا کے فضل سے لاکھوں کی جماعت ہے۔مگر تحریک جدید میں حصہ لینے والوں کی تعداد شروع سے پانچ ہزار کے ارد گرد گھوم رہی ہے۔کبھی یہ تعداد ساڑھے چار ہزار ہو جاتی ہے، کبھی ساڑھے پانچ ہزار ہو جاتی ہے اور کبھی پانچ ہزار ہو جاتی ہے۔جو لوگ اس تحریک میں حصہ لینے کا وعدہ کرتے ہیں۔چونکہ سال کے آخر تک ان میں سے کچھ پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور اپنے وعدوں کو پورا نہیں کر سکتے، اس لئے جب وعدوں کا وقت آتا ہے تو یہ تعداد پانچ ہزار سے اوپر چلی جاتی ہے۔لیکن جب ادائیگی کا وقت آتا ہے تو یہ تعداد بھی پانچ ہزار ہو جاتی ہے اور کبھی پانچ ہزار سے بھی نیچے چلی جاتی ہے۔اس وقت تک وہ لوگ جنہوں نے اس تحریک میں حصہ لیا اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق خدا تعالیٰ کے سپاہی کہلانے کے مستحق ہیں، وہ پنتالیس سو اور پانچ ہزار کے درمیان ہیں۔شاید وہ جو ابھی تک اپنے وعدے پورے نہیں کر سکے یا وہ جواب تک اپنی سستی اور غفلت کی وجہ سے اس میں حصہ نہیں لے سکے مگر اب وہ اس میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتے ہوں یا وہ جو نئے سال سے اس تحریک میں شامل ہو جائیں ، ان سب کو ملحوظ رکھتے ہوئے شاید یہ تعداد پوری ہو جائے بلکہ شاید نہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل سے یقیناً یہ سب مل کر اس تعداد کو پورا کر دیں گے، جو اللہ کی طرف سے پیشگوئی میں معین کی گئی ہے۔اور اس طرح ایک اور ثبوت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا مل جائے گا کہ کس شان اور عظمت کے ساتھ آپ کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔آخر یہ کس بندے کی طاقت میں تھا کہ وہ اسلام کی 266