تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 249
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 30 اپریل 1943ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم ضرورت ہے؟ آپ نے اس لڑکے کو ہی امام مقرر کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں انگلیا صفوں پر مرد ہوا کرتے تھے اور پچھلی صفوں پر عورتیں ہوا کرتی تھیں۔ایک دفعہ اس نے جماعت کراتے ہوئے سجدہ سے سر اٹھاتے وقت اللہ اکبر کہا تو ایک عورت نے اپنا سر پہلے اٹھا لیا۔اس لڑکے کا کرتا چھوٹا تھا اور پاجامہ کوئی تھا نہیں۔اس عورت کی اتفاقاً نظر جاپڑی اور اس نے دیکھا کہ وہ نگا ہو رہا ہے۔شروع شروع کا زمانہ تھا، اس نے شور مچانا شروع کر دیا کہ ارے لوگو اپنے امام کا ستر تو ڈھانکو۔آخر لوگوں نے چندہ کر کے اس کو تہبند بنوا کر دیا۔اب کیا تم سمجھتے ہو کہ اس لڑکے کی عزت تہبند نہ ہونے کی وجہ سے کم تھی ؟ آج جو دنیا میں بڑے بڑے مالدار اور معزز لوگ دکھائی دیتے ہیں، ان سے یقیناً اس لڑکے کی عزت زیادہ تھی۔بلکہ خدا کے نزدیک وہ ہر ایسے مالدار سے جو تقویٰ میں اس سے کم درجہ پر تھا، زیادہ معزز تھا۔ہم کسی بڑے سے بڑے مالدار کو رضی اللہ عنہ نہیں کہتے بلکہ اگر کوئی ہمیں رضی اللہ عنہ کہنے پر مجبور بھی کرے تو ہم نہیں کہیں گے۔مگر اس لڑکے کے نام پر ہم سب رضی اللہ عنہ کہنے پر مجبور ہیں۔اگر آج کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو کوئی گالی دے تو ایک مومن کا دل نہیں رکھتا لیکن اگر اس لڑکے کو کوئی شخص گالی دے تو ایک مومن کا دل زخمی ہو جاتا ہے۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ لڑکا ہمارے محبوب آقا کا صحابی تھا۔اس لئے ہمارے نزدیک دنیا کے کسی بادشاہ کی بھی وہ عزت نہیں ، جو اس لڑکے کی ہے۔پس میں نے ان دوستوں کو جواب دیا کہ تم کپڑے نہ ملنے کا افسوس نہ کرو۔صرف اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے رہو کہ ہمارے ملک میں غلہ کم نہ ہو۔اگر غلہ لوگوں کو میسر آتا ر ہے تو اسلام جو زندگی پیش کرتا ہے، اس کے لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم پر کوئی آفت نہیں آتی۔روٹی ایسی چیز ہے، جو انسان کی زندگی کے قیام کے لئے ضروری ہے، اس میں کمی نہ آئے تو کوئی تکلیف انسان کو نہیں ہوسکتی۔باقی جس قدر چیزیں ہیں ، وہ سب زوائد ہیں ملیں یا نہ ملیں، کوئی بات نہیں۔آج کل ولایت میں ایک کالی روٹی کہلاتی ہے، جس میں کچھ غلہ اور کچھ دوسری چیزیں ملی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ بڑا شور مچاتے ہیں کہ ہمیں کھانے کے لئے کالی روٹی ملتی ہے۔حالانکہ ہمارے ہاں لوگ باجرے کی خالص روٹی کھاتے ہیں اور انہیں ذرہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ کسی تکلیف میں مبتلاء ہیں۔ان کے ہاں آئے میں اگر ذرہ سی بھی ملاوٹ ہو جائے تو شور مچادیتے ہیں کہ ہم پر آفت آگئی ہے، ہم مر گئے ہمیں کالی روٹی کھانے کے لئے مل رہی ہے۔لیکن ہمارے ملک میں کروڑوں کروڑ لوگ ایسے ہیں، جو باجرہ اور جوار کھاتے ہیں بلکہ بعض علاقوں میں پھل کی روٹی کھائی جاتی ہے۔میں نے خود نڈھل کی روٹی استعمال کی ہے، بڑی سخت ہوتی 249