تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 237

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جنوری 1943ء ظاہر ہیں اور زمانہ ان کو لوگوں کی نگاہ سے مخفی نہیں کر سکا۔گویا ان کی جسمانی نسل مخفی ہو گئی مگر ان کی روحانی نسل یعنی ان کے وہ کارنامے، جو انہوں نے کئے ، آج بھی ظاہر ہیں اور قیامت تک ظاہر رہیں گے اور آخرت میں ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ثواب ملنا ہے، اس کا تو ہم اندازہ اور قیاس بھی نہیں کر سکتے۔کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی شان اور اس کی عظمت اور اس کے قرب کا اندازہ لگا سکے؟ معمولی معمولی مٹھائی کی دوکانیں ہوتی ہیں۔مگر لوگ ان مٹھائیوں کے مزے میں بھی فرق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں حلوائی سے مٹھائی کی جائے کیونکہ اس کا مزہ اچھا ہوتا ہے۔لوگ دتی جاتے ہیں تو اپنے دوستوں سے پوچھ لیتے ہیں کہ انہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دیں؟ اور وہ کہتے ہیں کہ اگر دتی گئے تو فلاں مٹھائی والے سے مٹھائی لے آنا کیونکہ اس کی مٹھائی کا مزہ نہایت اعلیٰ ہوتا ہے۔اگر یہ گندی تہبند باندھنے والے حلوائی، جو مٹھائی بناتے بناتے باہر پیشاب کرنے چلے جاتے ہیں اور پھر بغیر ہاتھ دھوئے اور طہارت کئے مٹھائی بنانے لگ جاتے ہیں۔ان کی تیار کی ہوئی مٹھائیوں کے مزہ میں فرق ہوتا ہے تو خود ہی سوچ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے محبت کا جام جن لوگوں کو ملے گا، وہ کیسا لذید ہو گا اور کون سی قربانی ہے، جو اس کے مقابلہ میں اہم کہلا سکتی ہے؟“ (مطبوعہ الفضل 26 جنوری 1943ء) 237