تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 236

خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جنوری 1943ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اپنی نظر کو دور تک پھیلایا۔اس نے صرف اپنے رشتہ داروں یا عزیزوں یا دوستوں کے لئے کام نہیں کیا بلکہ ملک اور قوم کی عزت بچانے کیلئے آگے بڑھا۔اس لئے وہ ان لوگوں سے بہت زیادہ عزت کا مستحق ہوتا ہے، جو ڈاکوؤں سے لڑائی کرتے ہوئے یا کھیت کی منڈیر پر لڑتے ہوئے یا آگ بجھاتے ہوئے اپنی جانیں دے دیتے ہیں۔موجودہ دور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دور ہے۔یہ بھی ایک عظیم الشان دور ہے اور اس کے کاموں کا اثر قیامت تک باقی رہنے والا ہے۔اس لئے جو شخص آج اس دور کے کسی اہم کام میں حصہ لیتا اور اپنی طاقت اور وسعت کے مطابق قربانی کرتا ہے، وہ خدا تعالیٰ سے بہت بڑا اجر پانے کا مستحق ہے۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اپنے وعدوں کی لسٹیں مکمل کر کے بجھوادیں۔میں اس موقع پر قادیان والوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ اگر ان سے اب تک اس بارہ میں کوئی کوتاہی ہوئی ہو تو وہ اس کو تاہی کا اب جلد ازالہ کر لیں اور ہر محلہ والے اپنے اپنے وعدوں کی لسٹوں کو اچھی طرح دیکھ لیں اور اس امر کا جائزہ لیں کہ کوئی شخص اس میں حصہ لینے سے محروم تو نہیں رہا۔جس طرح عورتیں لکھی کر کے اپنے بالوں کو صاف کرتی اور ان میں سے جوئیں نکالتی ہیں۔اسی طرح تمہارا فرض ہے کہ تم بار بار اپنی لسٹوں کو دیکھو اور اگر کوئی کوتاہی ہو چکی ہو تو اس کو دور کر کے اپنی لسٹوں کو مکمل کرو۔کئی لوگ بار بار کی تحریک کے محتاج ہوتے ہیں،اس لئے ایسے لوگوں کے پاس بار بار جاؤ اور اپنی لسٹوں کو زیادہ سے زیادہ مکمل کرو۔کیا بلحاظ اس کے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں نے اس میں حصہ لیا ہو اور کیا بلحاظ اس کے کہ انہوں نے پہلے سے زیادہ چندہ لکھوایا ہو اور کسی نے اپنی طاقت سے کم حصہ نہ لیا ہو۔مگر جیسا کہ میں نے بار بار بتایا ہے، کسی کو مجبور مت کرو کہ وہ اس تحریک میں ضرور حصہ لے۔تم اس سے درخواست کرو کہ وہ اس میں حصہ لے ہم اس تحریک کی اہمیت اس پر واضح کرو اور اسے سمجھاؤ کہ خدمت دین کے یہ مواقع بار بار میسر نہیں آیا کرتے نسلیں مٹ جاتی ہیں مگر وہ لوگ جنہوں نے خدا تعالیٰ کے دین کیلئے قربانیاں کی ہوئی ہوتی ہیں ، ان کے نام کو زمانہ نہیں مٹا سکتا اور نہ اس ثواب کو مٹا سکتا ہے، جو انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والا ہوتا ہے۔آج کتنے صحابی ہیں، جن کی نسلوں کا بھی ہمیں پتہ نہیں کہ وہ کہاں گئیں ؟ اور تو اور حضرت ابو بکر کی نسل کا پورا پتہ میں نہیں ملتا، حضرت عمر کی نسل کا پورا پتہ میں نہیں ملتا۔کرید کرید کر خاندان نکالے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ خاندان حضرت ابو بکر کی نسل میں سے ہے، یہ خاندان حضرت عمر کی نسل میں سے ہے۔مگر ابو بکر اور عمر نے جو قربانیاں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں کی تھیں، وہ آج بھی 236