تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 233

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جنوری 1943ء آمد سے دو دو، تین تین گنا زیادہ ہے اور وہ خوشی سے قربانی کر رہے ہیں۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تاجروں میں بالعموم وہ اخلاص نہیں پایا جاتا جو ملا زمت پیشہ لوگوں میں پایا جاتا ہے۔شاید اس لئے کہ ملازمت پیشہ لوگوں میں تعلیم زیادہ ہے یا شاید اس لئے کہ ان کی مقررہ آمد نیاں ہوتی ہیں اور ان کے دلوں میں گھبراہٹ پیدا نہیں ہوتی کہ آج کیا ہوگا اور کل کیا ہوگا ؟ مگر بہر حال تجربہ یہی بتاتا ہے کہ ملازمت پیشہ لوگ قربانی میں بہت بڑھے ہوئے ہیں۔اسی طرح زمیندار دوست بھی تاجر پیشہ لوگوں سے زیادہ قربانی کرتے ہیں۔سب سے کم قربانی کرنے والی تاجر پیشہ لوگوں کی جماعت ہے۔ان میں سے بعض کی سالانہ آمد پچھیں چھپیں ہیں تھیں، چالیس چالیس ہزار روپیہ ہے۔مگر ان کا چندہ دیکھا جائے تو کسی کا پچاس روپیہ ہوتا ہے، کسی کا ساٹھ کسی کا سو اور کسی کا دوسو۔گویا وہ اپنی ایک مہینہ کی آمد کا دسواں حصہ بلکہ بعض دفعہ پچاسواں حصہ خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہیں۔جو در حقیقت ان لوگوں کے چندہ کی نسبت جو ملازم پیشہ ہیں، قربانی کے لحاظ سے سواں حصہ ہوتا ہے۔یعنی ایک ملازم جس رغبت اور اخلاص اور محبت سے قربانی میں حصہ لیتا ہے، تاجر اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کے رجسٹر میں سواں بلکہ دوسواں حصہ لیتا ہے۔بے شک ہماری جماعت میں ایسے تاجر بھی ہیں، جو اپنی آمدنیوں کے مطابق بلکہ بعض دفعہ اپنی آمدنی سے بہت زیادہ قربانی کرتے ہیں مگر وہ مستثنی ہیں۔زیادہ تر ہماری جماعت میں ایسے ہی تاجر ہیں، جو اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کرتے اور تو کل کی کمی کی وجہ سے وہ اسی خیال میں رہتے ہیں کہ اگر آج خدا تعالیٰ کی راہ میں کچھ دے دیا تو کل کیا ہو گا؟ حالانکہ جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کرتا ہے، اس کی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور اسے خدا تعالیٰ دین اور دنیا دونوں میں بدلہ دیتا ہے۔پس جو لوگ تاجر ہیں یا نئے ملازم ہوئے ہیں مگر اب تک انہوں نے اس تحریک میں حصہ نہیں لیا، ان کو میں پھر توجہ دلاتا ہوں کہ اب دن بہت تھوڑے رہ گئے ہیں۔تحریک جدید کا یہ دور اب اپنے آخری مقام تک پہنچنے والا ہے۔یہ نواں سال ہے، اگلا سال تحریک جدید کا دسواں اور آخری سال ہوگا۔اس کے بعد یہ تحریک اپنی موجودہ شکل میں ختم ہو جائے گی اور ہم خدا تعالیٰ سے کسی اور رستہ کے امیدوار ہوں گے۔جو قربانی اور اخلاص اور ایمان کا رستہ ہو گا اور جس پر چل کر ہر مومن اپنے رب کی رضا حاصل کر سکے گا۔مگر بہر حال اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ اس قسم کی تحریک صدیوں میں کوئی ایک تحریک ہی ہوا کرتی ہے اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دور ایک یادگار زمانہ دور ہے۔جس کی تمام انبیاء و مرسلین نے حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک خبر 233