تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 222

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 04 دسمبر 1942 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم بیسواں حصہ لائے گا، کوئی دسواں حصہ لائے گا، کوئی آٹھواں حصہ لائے گا، کوئی پانچواں حصہ لائے گا مگر میں تو اپنا آدھا مال لے آیا ہوں اور کسی نے میرے برابر کیا قربانی کرنی ہے؟ جب وہ مال سے لدے پھندے اور بوجھ سے دبے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں پہنچے تو دیکھا کہ حضرت ابوبکر پہلے ہی پہنچے ہوئے 2 ہیں۔ان کے دل میں یہ بھی خیال تھا کہ میں سب سے پہلے بھی پہنچوں اور قربانی بھی میری ہی سب سے زیادہ ہو۔جب انہوں نے حضرت ابوبکر کو پہلے پہنچا ہوا دیکھا تو کہنے لگے آج بھی یہ بڑھا سبقت لے گیا۔مگر خیر قربانی میں تو میرا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔جب وہ اور زیاہ قریب پہنچے تو انہوں نے سنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر سے کہہ رہے تھے کہ ابو بکر تم سب کچھ لے آئے۔گھر میں کیا چھوڑ ؟؟ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ حضور! اللہ اور رسول کا نام چھوڑا ہے۔اس وقت حضرت عمر کو معلوم ہوا کہ وہ جو سمجھتے تھے کہ آج میں قربانی میں سب سے بڑھ جاؤں گا، ان کا یہ خیال درست نہ نکلا اور آج بھی ابوبکر سب سے بڑھ گیا۔تو دلوں کے بدلنے سے ہی سب قربانیاں ہوتی ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ دل نہ بدلے تو کوئی قربانی نہیں ہو سکتی۔ہماری جماعت کو ہی دیکھ لو چونکہ ہماری جماعت کے دل بدلے ہوئے ہیں، اس لئے باوجود اس کے کہ ہماری جماعت چھوٹی سی ہے، قربانیوں کے میدان میں وہ دوسروں سے بہت بڑھی ہوئی ہے۔اس کے مقابلہ میں مسلمانوں میں آج اس گرمی ہوئی حالت میں بھی ایسے ایسے مالدار موجود ہیں کہ ہماری ساری جماعت کی جائیدادیں ان میں سے اگر صرف ایک شخص خریدنا چاہے تو خرید سکتا ہے مگر باوجود اس قدر مالدار ہونے کے انہیں اسلام کے لئے اتنا چندہ دینے کی توفیق نہیں ملتی، جتنی ان کے نوکروں کے نوکروں سے بھی کم حیثیت رکھنے والے ہماری جماعت کے افراد ایک مہینہ میں دے دیتے ہیں۔یہ دلوں کے تغیر کی بات ہے۔ورنہ مال دوسروں کے پاس زیادہ ہے۔لیکن اس کے باوجود ہماری جماعت کے افراد ہر تحریک میں نمایاں حصہ لیتے ہیں، ماہوار چندے دیتے ہیں اور اپنی قربانی کو ہر سال اس قدر بڑھاتے چلے جاتے ہیں کہ تعجب آتا ہے۔ہمارے ہاں سوسو روپیہ کی رقمیں چندہ میں نہایت کثرت سے آتی ہیں۔لیکن دوسروں کے ہاں اس قدر چندہ دینے والے بہت شاذ ہوتے ہیں اور اگر کبھی کوئی سور و پیہ چندہ دے دے تو اعلان کئے جاتے ہیں کہ فلاں نے سو روپیہ کی رقم خطیر دے دی ہے۔لیکن ہم اپنے ہاں یہ دکھا سکتے ہیں کہ ہماری جماعت کے چالیس چالیس، پچاس پچاس اور ساٹھ ساٹھ روپے تنخواہ لینے والے سوسور و پیہ چندہ دے دیتے ہیں اور ایسی ایک دو نہیں سینکڑوں مثالیں پائی جاتی ہیں۔لیکن ان کو حس بھی نہیں ہوتی کہ انہوں 222