تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 215

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 27 نومبر 1942ء من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی والا معاملہ ہوگا۔تو سینکڑوں سال بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ مقام عطا فرمایا۔آپ میں ایسے لوگ موجود ہیں، جو صرف دو آنہ چندہ دیا کرتے تھے مگر صحابی وہ بھی کہلاتے ہیں۔اسی طرح آپ لوگوں میں وہ بھی ہیں، جو پانچوں نمازیں مسجد میں پڑھ سکتے ہیں لیکن پڑھتے مسجد میں چار ہیں۔خدا تعالیٰ کے حضور ایسے لوگ بے شک کمزور یا گناہگار سمجھے جائیں گے۔مگر جب وہ مر جائیں گے تو خدا تعالیٰ کے حضور تو وہ کمزور مومنوں میں شمار ہوں گے لیکن دنیا میں ان کی اولادوں کو بڑے بڑے بادشاہ بلا کر عزت و تکریم کی جگہ پر بٹھائیں گے اور کہیں گے یہ فلاں صحابی کی اولاد ہیں۔صحابیت کے مقام کے لحاظ سے بے شک تمہارے اندر بعض کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔مگر تم نے صحابی بن کر اپنی اولادوں کے لئے جائیداد میں پیدا کر دی ہیں۔بڑے بڑے بادشاہ آئیں گے اور وہ تمہاری اولادوں کی عزت کرنے پر مجبور ہوں گے۔وہ کہیں گے یہ صحابی کی اولاد ہیں۔حالانکہ ممکن ہے، وہ صحابی کہلانے والا منافق ہو یا کمزور اور خطا کار مومن ہو۔چنانچہ دیکھ لو، خدا تعالیٰ نے عبد اللہ بن ابی بن سلول کو تو ظاہر کر دیا اور بتا دیا کہ وہ منافق ہے مگر اور منافقوں کو ظاہر نہیں کیا۔حالانکہ بیسیوں منافق تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا علم تھا۔حضرت حذیفہ ایک صحابی تھے، وہ ہمیشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پڑ کر اصرار سے دریافت کیا کرتے تھے کہ کون کون منافق ہے؟ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بتا دیا کرتے تھے۔صحابہ کہتے ہیں ہمیں معلوم نہیں تھا کہ کون کون منافق ہے؟ مگر حذیفہ ہمیشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پڑے رہتے تھے کہ یا رسول اللہ! مجھے منافقوں کے نام بتا دیجئے ، ایسا نہ ہو کہ میں کسی منافق کے پیچھے نماز پڑھ بیٹھوں اور میری نماز خراب ہو جائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اصرار کو دیکھ کر انہیں منافقوں کے نام بتا دیا کرتے تھے۔صحابہ کہتے ہیں چونکہ حذیفہ کو منافقوں کا علم تھا، اس لئے ہم ہمیشہ تاڑتے رہتے تھے کہ حذیفہ " کس کا جنازہ نہیں پڑھتے؟ جس کا جنازہ موجود ہونے کے باوجود حضرت حذیفہ نہیں پڑھا کرتے تھے اس کا جنازہ ہم بھی نہیں پڑھتے تھے اور سمجھ جاتے تھے کہ وہ منافق تھا۔اب دیکھو ہمیں معلوم نہیں کہ کون کون منافق تھا ؟ حضرت حذیفہ کو بے شک معلوم تھا مگر انہوں نے کسی کو بتایا نہیں۔اب حدیثوں میں جب ان صحابہ کا نام آتا ہے تو ہم کیا کہتے ہیں؟ ہم یہی کہتے ہیں رضی الله عنهم، رضی ! عنہم اور نہ معلوم ہماری ان دعاؤں سے کتنے بخشے جاچکے ہوں؟ کیونکہ جب سارے مسلمان ان کا نام آنے پر رضی اللہ عنھم کہتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو تو غالبا خدا تعالیٰ الله 215