تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 214
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 نومبر 1942ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم اسی غرض کے لئے آج میں خود چل کر آیا ہوں باوجود اس کے کہ بیماری کی حالت میں نکلنا میرے لئے مشکل تھا اور باوجود اس کے کہ لکڑی کے سہارے بھی اگر چلنے کی کوشش کروں تو درد عود کر آتا ہے اور باوجود اس کے کہ کرسی پر بیٹھ کر اور لوگوں کے کندھوں پر سوار ہو کر آنا میری طبیعت کے خلاف ہے اور مجھے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی گھٹتا ہوا آرہا ہو۔پھر بھی میں نے اپنے مزاج کے خلاف اور اپنی صحت کے خلاف یہ کام محض اس لئے کیا ہے تاکہ میں دوستوں کو توجہ دلاؤں کہ اب غفلت اور کوتاہی سے کام لینے کا وقت نہیں رہا۔جس نے آج غفلت اور کوتا ہی سے کام لیا، اس کے لیے دوبارہ منزل کو پہنچنا اور ریل کو پکڑنا مشکل ہوگا۔یا درکھو خدا تعالیٰ کے قرب کی طرف جانے والی ریل اب چلنے ہی والی ہے ، آخری گھنٹیاں بیچ رہی ہیں، اس کے بعد جورہ گیا، وہ ہمیشہ کے لئے رہ گیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نیکیوں کے مواقع ہمیشہ ملتے رہتے ہیں۔مگر نیکیوں کے مدارج میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔صحابہ کو دیکھ لو، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں بیٹھنے کی وجہ سے وہ صحابیت کا مقام حاصل کر گئے اور دنیا آج تک ان کی عزت کرنے پر مجبور ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ بعد میں بھی اگر کوئی شخص صحابہ کے مقام تک پہنچنا چاہے اور اس کے لئے صحیح جد و جہد کرے تو وہ اس مقام تک پہنچ سکتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کروڑہا کروڑ لوگوں میں سے کتنے ہیں، جنہیں صحابیت کا مقام حاصل ہوا؟ ہر زمانہ میں کروڑوں لوگ امت محمدیہ میں ہوئے مگر کسی زمانہ میں دو اور کسی زمانہ میں تین صحابہ کے مقام کو حاصل کر سکے اور باقی لوگوں میں سے کوئی شخص اس مقام تک نہ پہنچ سکا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عبداللہ بن ابی بن سلول جیسا منافق انسان بھی صحابی کہلاتا تھا۔تو ایک زمانہ ایسا ہوتا ہے، جب خدا تعالیٰ کے قرب کے دروازے کھلے ہوتے ہیں اور انسان معمولی معمولی قربانیوں۔بڑے بڑے انعامات حاصل کر سکتا ہے۔دیکھ اور سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عبد اللہ بن ابی بن سلول بھی صحابی تھا مگر بعد میں بڑے بڑے لوگ بھی صحابیت کا مقام حاصل نہیں کر سکے۔کسی بہت بڑے مجاہدہ کرنے والے انسان نے صحابہ کے درجہ کو پایا ہو تو اور بات ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کتنے لوگ ہیں، جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ملے ہوں اور اس طرح انہیں صحابیت کا شرف حاصل ہوا ہو؟ ہاں اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے تم کو صحابی بنے کا موقعہ دے دیا۔کیونکہ تم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا اور مسیح موعود وہ شخص ہے، جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور وہ ایک ہی ہیں۔اس کا نام میرے نام کے مطابق اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے مطابق ہوگا۔گویا 214