تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 213
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 27 نومبر 1942ء ہم اپنے سپاہیوں کے مخزن کو دیکھیں گے تو بجائے اس کے کہ اس میں سے زندہ اور دین دار سپاہی نکلیں، مردہ اور بے دین آدمی نکلیں گے اور وہ اسلام کو فائدہ پہنچانے کی بجائے اس کے ضعف اور تنزل کا باعث بن جائیں گے۔یہ تو ایک ضمنی بات تھی، اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آج تحریک جدید کا نواں سال شروع ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ چار حصے سفر کے طے ہو چکے ہیں اور اب صرف پانچواں حصہ باقی رہ گیا ہے۔میں ہر سال دوستوں کو یہ تحریک کرتا چلا آیا ہوں کہ انہیں اس میں پہلے سالوں سے زیادہ حصہ لینا چاہئے مگر اس سال میں دوستوں سے یہ کہتا ہوں کہ ان کو اس تحریک میں گذشتہ سالوں سے بہت زیادہ حصہ لینا چاہئے اور چونکہ یہ تحریک اب خاتمہ کے قریب ہے، اس لئے انہیں اس سال پہلے سالوں سے نمایاں اضافہ کے ساتھ وعدے کرنے چاہئیں۔خاتمہ سے میری مراد یہ نہیں کہ اس کے بعد کوئی تحریک نہیں کی جائے گی۔در حقیقت کوئی جماعت پے در پے تحریکات کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی اور ہماری جماعت کے سامنے وقتا فوقتا نئی سے نئی تحریکات انشاء اللہ ہوتی چلی جائیں گی۔مگر بہر حال دس سال گزرنے کے بعد اس تحریک کی موجودہ شکل قائم نہیں رہے گی۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس کے بعد کیا صورت پیدا ہو؟ میں بھی دعا کر رہا ہوں، تم بھی دعائیں کرو کہ ان دس سالوں کے بعد اس درخت کو زندہ اور سرسبز و شاداب رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ میری صحیح راہنمائی فرمائے اور اپنی طرف سے ترقی کی تدابیر بتائے۔مگر بہر حال جیسا کہ میں اعلان کر چکا ہوں، دس سال کے بعد اس تحریک کی موجودہ شکل ختم ہو جائے گی اور چونکہ اب سفر خاتمہ کے قریب ہے۔اس لئے اس وقت بہت زیادہ ہمت اور بہت زیادہ کوشش اور بہت زیادہ سعی اور بہت زیادہ قربانی کی ضرورت ہے۔میں جانتا ہوں کہ بعض لوگ ایسے ہیں، جنہوں نے شروع سے اس تحریک میں نمایاں قربانی کے ساتھ حصہ لیا ہے مگر ایسے لوگ بھی بہت ہیں، جنہوں نے اپنے معیار سے کم قربانیاں کی ہیں۔پس وہ لوگ ، جنہوں نے ابھی تک نمایاں قربانی نہیں کی، میں ان سب سے کہتا ہوں کہ سفر اب خاتمہ کے قریب ہے، منزل نظر آرہی ہے۔اگلا سال تحریک جدید کا آخری سال ہوگا۔پس تمہیں کنارے پر پہنچ کر اپنا سارا زور لگا دینا چاہئے تا کہ اللہ تعالی اس تحریک کے ذریعہ اسلام اور سلسلہ کے مفاد کے لئے ایک ایسی مستقل بنیاد قائم کر دے جو آئندہ آنے والے دنوں میں اسلام اور شیطان کی جنگ میں ایک مفید اور بابرکت عنصر ثابت ہو۔213