تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 212
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 نومبر 1942 ء تحریک جدید - ایک الپی تحریک۔۔۔۔جلد دوم کی اجازت سے مالک مکان کی کرسی اٹھالا یا تھا یا میز اٹھالایا تھا۔اس کی اجازت سے وہ چوری جائز تو نہیں ہو جائے گی۔اس کے معنی تو صرف یہ ہوں گے کہ تم بھی چور ہو اور وہ بھی چور ہے۔پس تمہارا کسی گارڈ کے کہنے پر یاسٹیشن ماسٹر کے کہنے پر بلا ٹکٹ چلے جانا، یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ بھی چور ہے اور تم بھی چور ہو۔تم اگر چار آنے نہیں ایک پیسہ بھی ریلوے ایجنٹ کی جیب سے نکال لیتے ہو تو تم اپنے دل میں ضرور شرمندہ ہو گے کہ میں نے چوری کی ہے۔پھر تمہیں کیوں خیال نہیں آتا کہ تم ایک پیسہ نہیں بلکہ بعض دفعہ چار یا چھ آنے بلا ٹکٹ سفر کر کے گورنمنٹ کے خزانہ سے چرا لیتے ہو اور تم سمجھتے ہو کہ تم نے کوئی برافعل نہیں کیا۔اگر کوئی گارڈ یا سٹیشن ماسٹر تمہیں کہتا ہے کہ تم بلا ٹکٹ سفر کر لو تو اس کا یہ کہنا بھی تمہارے فعل کو جائز قرار نہیں دے سکتا۔بلکہ اس کے معنی صرف یہ ہوں گے کہ تم بھی چور ہو اور وہ بھی چور ہے۔پس بلا ٹکٹ سفر کرنا کوئی خوبی کی بات نہیں بلکہ یہ بھی ویسی ہی چوری ہے جیسے کسی اور چیز کی چوری ہوتی ہے۔سوچو تو سہی کہ اگر تمہاری الماری میں مصری پڑی ہوئی ہو اور کوئی دوسرا شخص اس میں سے ایک تولہ بھی چرالے تو باوجود اس کے کہ مصری تین آنے کی آدھ سیر آجاتی ہے، تم ایک تولہ مصری چرانے والے کو ملامت کرنے لگ جاتے ہو اور کہتے ہو بے شرم بے حیا تیرے باپ کا مال تھا کہ تو نے بلا اجازت لے لیا۔پھر تم سوچو کہ تم ایک تولہ مصری اٹھالے جانے والے کو تو بے شرم کہتے ہو اور تم گورنمنٹ کے اتنے آنے چرا کر لے آتے ہو اور تمہیں کوئی ندامت کے محسوس نہیں ہوتی۔اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر چھ آنے کا ٹکٹ ہو اور تم بلا ٹکٹ سفر کرو تو تم نے گورنمنٹ کی ایک سیر مصری چرالی یا تین سیر گندم اڈالی۔پس بلا ٹکٹ سفر کرنا بھی بہت بڑا گناہ ہے اور تمہیں ان عیوب سے محفوظ رہنا چاہئے بلکہ اگر تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں ، تب بھی تم کہو کہ ہمیں موت منظور ہے مگر بے ایمانی منظور نہیں۔تو یہ چیزیں اس قسم کی ہیں کہ اس میں ہم تم سے بہت اچھی امید رکھتے ہیں اور تمہارا فرض ہے کہ بجائے اس کے کہ خود ان گناہوں کا ارتکاب کرو، اگر کوئی اور شخص اس قسم کی غلطی کرے تو اسے سمجھاؤ اور اگر سمجھانے کے بعد بھی نہ مانے تو اس کی شکایت کرو اور اس بات کو یاد رکھو کہ جیسے غلہ میں کیڑا لگ جاتا ہے، اسی طرح یہ گناہ تمہاری روحانیت کے لئے موت کے کیڑے ہیں۔اگر تمہارے پاس سال بھر کا غلہ ہو اور تمہاری غفلت سے اسے کیڑا لگ جائے اور دوسری طرف ملک میں بھی غلہ ختم ہو جائے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ جب تم غلہ کو کوٹھی سے نکالو گے تو وہ کرم خوردہ ہو گا اور تمہارے کسی کام نہیں آئے گا۔اسی طرح اگر اس قسم کی ٹھکیوں کی عادت پیدا ہو جائے تو جماعت کو گھن کھا جائے گا اور جب دین کے لئے لڑائی کا وقت آئے گا اور 212