تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 200
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 نومبر 1942ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم جگہ ایک شخص ڈوب رہا ہے، اسے چل کر بچاؤ تو تم کئی تیر نے والوں کو بھی اس کی جان بچانے کے لئے آمادہ نہیں کر سکو گے لیکن تالاب یا نہر یا دریا پر جولوگ کھڑے ہوں اور اپنی آنکھوں سے کسی کو ڈوبتا دیکھ رہے ہوں، ان میں سے ایسے لوگ بھی دوسرے کو بچانے کے لئے دریا میں چھلانگ لگا دیتے ہیں جو خود تیر نا نہیں جانتے۔ہم نے اپنی آنکھوں سے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے، جو تیر نا نہیں جانتے تھے مگر جب انہوں نے دیکھا کہ کوئی شخص ڈوبنے لگا ہے تو یکدم ان کی طبیعت میں ایسا جوش پیدا ہوا کہ وہ بھی کود گئے اور انہوں نے اپنی جان کی کوئی پرواہ نہ کی۔کیونکہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے ایک نظارہ دیکھا اور ان کے لئے یہ برداشت کرنا مشکل ہو گیا کہ وہ تو کنارے پر کھڑے رہیں اور کوئی اور شخص ان کے دیکھتے دیکھتے ڈوب جائے۔میں سمجھتا ہوں تم میں سے بھی ہر شخص نے اس قسم نظارے دیکھے ہوں گے۔اسی طرح میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ ایک جگہ آگ لگی ہوئی ہوتی ہے مگر ایک اور شخص اس آگ میں بے دھڑک کو د جاتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ میں کچھ نہ کچھ سامان نکال کر لے آؤں گا حالانکہ اگر کسی دوسرے گاؤں سے لوگوں کو مدد کے لئے بلایا جائے اور یہ کہا جائے کہ فلاں جگہ آگ لگی ہوئی ہے، اسے چل کر بجھاؤ تو کئی لوگ بہانے بنانے لگ جائیں گے۔کوئی کہے گا میرے سر میں درد ہے اور کوئی کہے گا میرے پیٹ میں درد ہے۔لیکن جو لوگ آگ کے کنارے کھڑے ہوں ، وہ برداشت نہیں کر سکتے اور ان میں سے کئی آگ میں کود جاتے ہیں۔تو تحریک جدید سے میری غرض جماعت میں صرف سادہ زندگی کی عادت پیدا کرنا نہیں۔بلکہ میری غرض انہیں قربانیوں کے تنور کے پاس کھڑا کرنا ہے۔تا کہ جب ان کی آنکھوں کے سامنے بعض لوگ اس آگ میں کود جائیں تو ان کے دلوں میں بھی آگ میں کودنے کے لئے جوش پیدا ہو اور وہ بھی اس جوش سے کام لے کر آگ میں کو دجائیں اور اپنی جانوں کو اسلام اور احمدیت کے لئے قربان کر دیں۔اگر ہم اپنی جماعت کے لوگوں کو اس بات کی اجازت دے دیتے کہ وہ باغوں میں آرام سے بیٹھے رہیں تو وہ گرمی میں کام کرنے پر آمادہ نہ ہو سکتے اور بزدلوں کی طرح پیچھے ہٹ کر بیٹھ جاتے۔مگر اب جماعت کے تمام افراد کو قربانیوں کے تنور کے قریب کھڑا کر دیا گیا ہے تا کہ جب ان سے قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے تو وہ اپنی جان کو قربان کرتے ہوئے آگ میں کو دجا ئیں۔چنانچہ جب قربانی کا وقت آئے گا، اس وقت یہ سوال نہیں رہے گا کہ کوئی مبلغ کب واپس آئے گا۔اس وقت واپسی کا سوال بالکل عبث ہوگا۔دیکھ لو عیسائیوں نے جب تبلیغ کی تو اسی رنگ میں کی۔تاریخوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی حواری یا کوئی اور شخص کسی علاقہ میں تبلیغ کے لئے گیا نہ 200